تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 185
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 جنوری 1975ء جماعت احمدیہ کے قیام کا اصل مقصد دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے دو خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جنوری 1975ء ایک لمبا منصو بہ ہوتا ہے، مثلاً یہ ایک لمبا منصوبہ ہے، جو جماعت کے سپرد کیا گیا ہے۔ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کی بنیادی غرض یہ تھی کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آئے۔یہ ایک لمبا منصوبہ، بنیادی منصوبہ یا غرض یا مقصد مہدی علیہ السلام کا یا ان کی بعثت کا تھا۔انسانی فطرت کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جو منصوبہ یا کام ایک زمانہ پر پھیلا ہوا ہو، اسے وہ مختلف حصوں میں بانٹ کر ایک ایک حصہ کی تکمیل کرتا ہوا اپنی آخری منزل تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔انسانی جسم بھی درجہ بدرجہ اپنے کمال کو پہنچتا اور انسان کے اخلاقی اور روحانی قویٰ بھی درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے اپنے دائرہ استعداد میں اپنی منازل طے کرتے ہوئے اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں۔درجہ بدرجہ آگے بڑھنے کا ایک ایسا اصول ہے، جو بنیادی ہے۔خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوق کے ساتھ بھی اور انسان کے ساتھ بھی۔ہماری زندگیوں کا اور جماعت احمدیہ کے قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کو غالب کیا جائے۔اس منصوبے نے بھی درجہ بدرجہ ترقی کرنی تھی اور اس وقت تک یہ منصو بہ درجہ بدرجہ ترقی کرتا چلا آرہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس وقت جب آپ اکیلے تھے، اس آواز کو بلند کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ میرے ذریعے سے امت محمدیہ میں ایک ایسی جماعت قائم کی جائے کہ جو اسلام کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر کے اسلام کو سب ادیان باطلہ پر غالب کرنے والی اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے والی ہو اور بنی نوع انسان کے دل اللہ تعالٰی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جیتنے والی ہو۔جس وقت یہ آواز اٹھائی گئی، اس وقت آپ اکیلے تھے۔مگر پھر سینکڑوں بنے۔پھر ہزاروں بنے۔پھر لاکھوں بن گئے۔پہلے محدود تھے مکانی لحاظ سے، ہندوستان کے بعض ( تین یا چار محدود مختصر اور چھوٹے چھوٹے علاقوں میں۔پھر ان علاقوں میں وسعت پیدا ہونی شروع ہوئی۔پھر یہ جماعت پنجاب میں پھیلی ، پھر ہندوستان میں پھیلی ، پھر کہیں کہیں باہر کے ممالک میں جماعت احمدیہ میں لوگ داخل ہونا شروع ہوئے۔پھر ملکوں ملکوں میں پھیل کر اپنی اجتماعی زندگی کے ایک خاص موڑ پر آج یہ جماعت پہنچ چکی ہے۔185