تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 183 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 183

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 03 جنوری 1975ء ہم اشاعت اسلام کے عالمگیر منصوبہ کے لئے خدا کی نصرت کے طالب ہیں 33 خطبہ جمعہ فرمودہ 03 جنوری 1975ء ایک سال آیا اور گزر گیا۔ایک نئے سال میں ہم داخل ہورہے ہیں۔مومن کا قدم ہمیشہ آگے پڑتا ہے۔وہ نہ پیچھے کی طرف دیکھتا ہے اور نہ ایک جگہ پر ٹھہرتا ہے۔پچھلا سال کچھ تلخیاں لے کر آیا مگر بہت سے فضلوں، رحمتوں اور اللہ تعالیٰ کے پیار کے سامان بھی لے کر آیا۔خدا تعالیٰ کی جو رحمتیں عالمگیر اور بین الاقوامی حیثیت کی تھیں اور بہت سے احمدیوں کی نظر سے بھی اوجھل تھیں، پچھلا سال انہیں نمایاں کر کے ہمارے سامنے لے کر آیا۔پچھلا سال صد سالہ جو بلی تحریک کا پہلا سال تھا۔جماعت احمدیہ نے پہلی بار اشاعت اسلام کے بین الاقوامی منصوبوں کی ابتدا کی تھی۔بعض ملکوں کو اکٹھا کر کے ان میں تبلیغ اسلام اور اشاعت قرآن کریم کے منصوبے بنائے گئے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں نے انہیں کامیاب بھی کیا۔گویا اشاعت اسلام کے عالمگیر اور بین الاقوامی منصوبے کی ابتداء گزشتہ سال یعنی 1973 ء کے جلسہ سالانہ پر ہوئی تھی۔جس کے نتیجہ میں ایک عالمگیر بین الاقوامی مخالفت کی بھی ابتدا ہوئی اور ہونی بھی چاہیے تھی۔کیونکہ حاسدوں کا حسد ہمیں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پیار دیکھنے کے مواقع میسر کرتا ہے۔غرض صد سالہ جو بلی منصوبہ کی ابتدا ہو چکی ہے۔یہ اس منصوبہ کا دوسرا سال ہے۔بالفاظ دیگر ایک اور سال ہے، ہماری اور جماعت احمدیہ کی زندگی کا، جس میں ہم داخل ہورہے ہیں۔انفرادی حیثیت سے ہم میں سے ہر شخص بچہ، جوان اور بوڑھا، مرد اور عورت اپنے بڑھاپے کی طرف حرکت کر رہا ہے۔مگر جماعتی حیثیت سے ہم ہر سال اپنی جوانی کی طرف اور اپنی کامیابیوں کی طرف حرکت کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایک خاص مقصد کے لئے قائم کیا ہے۔اس درخت کو ایک خاص قسم کے پھلوں کے لئے اور خاص قسم کی برکتوں کو بنی نوع انسان تک پہنچانے کے لئے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے کہ نوع انسانی، سوائے استثنائی طور پر چند محروموں کے، اسلام کے اس درخت کے سایہ سے اور اس کے پھلوں سے فائدہ حاصل کرے گی لیکن آج کا زمانہ اس درخت کی نشو ونما کا زمانہ ہے۔کچھ خوش نصیب لوگ ہیں، جو اس کی شاخوں پر بسیرا کرتے ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ مستقبل 183