تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 172
خطاب فرمودہ 31 مارچ 1974ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم لئے اور تباہ کرنے کے لئے اور اسے کند کرنے کے لیے معرکہ شروع ہوا۔وہ معرکہ 313 انسانوں سے شروع ہوا تھا اور پھر آہستہ آہستہ تعداد بھی بڑھتی گئی اور وسعت بھی بڑھتی گئی۔اور ایک وقت میں جو کہ دراصل عروج کا معرکہ ہے، یعنی جنگ احزاب، سارے عرب کے قبائل یہودیوں کے مشورہ اور ان کی دولت سے اور کفار مکہ کی سرداری میں اور ان کی زبر دست اور عرب میں مانی جانے والی طاقت کے ساتھ سارے دشمن اکٹھے ہو کر مدینہ پرحملہ آور ہو گئے۔اور الہی پیشگوئی کے مطابق انہوں نے شکست کھائی۔جنگیں بعد میں بھی ہوئیں، مگر ان جنگوں کا فیصلہ جو کہ بعد میں ہونے والی تھیں، احزاب کے میدان میں ہو چکا تھا۔اس وقت جس زمانہ میں ہم داخل ہوئے ہیں، میرے احساس کے مطابق یہ اس سے ملتا جلتا زمانہ ہے، جو جنگ احزاب کے وقت میں آج سے چودہ سو سال پہلے ہمیں نظر آتا ہے۔اس وقت بھی افق پر دشمنیاں اور مخالفتیں اور مخالفانہ دولتیں اکٹھی ہو کر اسلام کو مٹانے کے لئے جمع ہوگئی تھیں اور اس وقت بھی دنیا کی دوستیں اور دنیا کی طاقتیں حتی کہ ان کی طاقت بھی ، جو مذہب پر ہی یقین نہیں رکھتے ، مذہب کو مٹانے کے لئے اس اجتماع میں اس الجمیعت میں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ہماری یہ روحانی جنگ، جس میں ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم اور راکٹوں اور میزائلوں کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے بلکہ روحانی ہتھیاروں۔جنگ لڑی جانی ہے۔یہ جنگ روحانی ہتھیاروں سے پچھلے پچاسی سال سے لڑی جارہی ہے۔حقیقتا اس آخری معرکے کے آخری دور کے اندر جماعت داخل ہو رہی ہے۔اس کے لئے ہم نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اس کی برکت سے ایک منصوبہ بنایا ہے۔اور اس منصوبے کو خدا تعالیٰ نے ضرورت کے مطابق ہمارے ذہنوں میں ایسا ہی بنایا تھا کہ یہ ایک زبردست عالمگیر مقابلہ کی تیاری کا منصوبہ بن جائے۔اس منصوبہ کا صحیح مقام جماعت کو سمجھنا ضروری ہے۔جماعت احمدیہ کا مقصد ہی یعنی خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے اس کے قائم کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسلام کو ساری دنیا میں غالب کیا جائے۔پس جماعت احمدیہ کی پہلی کوشش اور جماعت احمدیہ میں جو پہلی تنظیمیں قائم ہوئیں اور جاری ہو ئیں ، وہ وہی مقاصد رکھتی ہیں، جو مقصد کہ موجودہ منصوبہ رکھتا ہے۔ان کا ایک ہی مقصد ہے۔بعثت مہدی کے ساتھ جو کام شروع ہوا، اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ توحید خالص کو دنیا میں قائم کیا جائے۔ہر دل میں تو حید خالص کو میخ کی طرح گاڑ دیا جائے۔اور اسلام کو اس طرح غالب کیا جائے کہ غیر مسلم کا وجود نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔پہلے دن سے یہی منصوبہ تھا۔لیکن وہ درجہ بدرجہ ترقی کرتا رہا۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اب ہم اس منصوبہ کے، یعنی اس عالمگیر جنگ کے، جو رحمتہ للعالمین کے زمانہ سے شروع ہوئی ہے، آخری معرکہ 172