تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 157 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 157

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء ہوتے ہیں۔کراچی والا کہے کہ ہم سات، آٹھ سو میل دور ہیں اور یہاں یہ فنکشن ہوتے ہیں۔اور ایک دیہاتی کہے کہ ہمارا یہ 60,70 گھروں کا ایک گاؤں ہے اور اس میں ہم 15,20 گھرانے احمدیوں کے ہیں۔لیکن دیکھو، یہ اللہ کا فضل ہے۔یہاں ہمارا جلسہ ہوا اور یہ اس کی تصاویر ہیں۔یا یہ کہ ہم نے یہاں شعبہ خدمت قائم کیا ہوا ہے۔اس میں عقیدہ اور مذہب اور فرقے کا کوئی سوال نہیں ہے۔چنانچہ یہ ہمارے مستحق دوست ہیں، ان کو ہم یہ سامان دے رہے ہیں۔ان کے لئے کلب بنائی ہے، ان سے ملتے ہیں اور اس چھوٹے سے گاؤں میں ان کی تعلیم کے لئے ایک ماہر ڈاکٹر نے آکر تقریر کی۔اور یہ اس کی تصویر ہے، وغیرہ وغیرہ۔اس قسم کی تصویریں وہ بھیجے گا۔اس طرح بشاشت پیدا ہوگی اور پتہ لگے گا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ بہت کچھ ہورہا ہے۔آپ کو بھی اکثر چیزوں کا پتا نہیں ہے۔یہ پتہ لگنا چاہیے۔ایک اور تدبیر، یہ چھوٹی تدابیر میں سے نہیں بلکہ بنیادی ہے۔وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی ایک غرض یہ تھی کہ امت محمدیہ آپ کی بعثت سے قبل بہتر 72 فرقوں میں بٹ چکی تھی۔اور ہر فرقہ دوسرے کو کا فرقرار دے رہا تھا۔آپ اس کفر بازی کو مٹانے کے لئے تشریف لائے۔وہ ایک دوسرے کو اس لئے کافر کہہ رہے تھے کہ ایک فرقہ دوسرے کو کہتا تھا کہ تمہارے اندر یہ باتیں عقائد اسلام کے خلاف داخل ہوگئی ہیں، اس لئے ہم تمہیں کا فرسمجھتے ہیں۔اور اس کے اپنے عقائد میں جو باتیں اسلام کے خلاف بدعات اور بدعقائد کی شکل میں داخل ہوگئی تھیں، اس کو ان کا احساس نہیں تھا۔ان کا احساس دوسرے کو ہوتا تھا۔اور وہ ایک دوسرے کو کافر کہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اعلان کیا کہ میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے روحانی فرزند کی حیثیت سے ایک حکم کی حیثیت سے تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں۔اور میں اس لئے آیا ہوں کہ جو کفر بازی کا بازار تم نے گرم کیا ہوا ہے، اسے ختم کروں اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں۔حکم کی حیثیت سے میں کہوں گا کہ تمہارے عقائد میں یہ یہ بدعت ہے، ان بدعات کو چھوڑ دو۔تم میری بات مانو اور ان کو چھوڑ دو۔اور جب سب کی بدعات چھٹ جائیں گی اور خالص اسلام تمہارے پاس ہوگا تو کفر بازی خود ہی بند ہو جائے گی۔کیونکہ وجوہ کفر جو تمہیں ایک دوسرے میں نظر آتی ہے، وہ پھر نظر نہیں آئیں گی۔پس ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ہمیں ان کو قریب لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔میں نے جلسہ پر بھی اعلان کیا تھا کہ آپس میں اختلافات ہیں، لیکن اس وقت ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ تمہارے اندر یہ بد عقائد ہیں یا نہیں ہیں؟ اس وقت ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جہاں تک ظاہری افراد کا 157