تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 142

خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم جیسا کہ میں نے بتایا ہے، انگلستان میں ایک مضبوط اور مخلص اور فعال جماعت پیدا ہو چکی ہے۔زیادہ تر پاکستانی ہیں یاوہ ہندوستانی ، جو مختلف ممالک میں گئے ہوئے تھے، جب ان کو وہاں سے نکلنا پڑا تو ان کی اکثریت انگلستان میں جا کر آباد ہوگئی۔کچھ کینیڈا میں چلے گئے اور کچھ امریکہ میں لیکن ایک بڑی تعداد میں وہ انگلستان میں آباد ہوئے ہیں اور کچھ وہاں کے اپنے باشندے ہیں۔یعنی انگلستان کے رہنے والے ہیں۔اس مرکز کو مضبوط کرنے کے لئے وہاں جو مشورے ہوئے ، میں سمجھتا ہوں کہ 3 سے 5 تک نئے مبلغ اور کم از کم 3 جگہوں پر نئی مساجد اور مشن ہاؤس بنانے پڑیں گے۔امریکہ میں اس وقت بھی خدا کے فضل سے 4 جگہ مساجد ہیں۔لیکن وہاں کے حالات یہ ہیں ، ہم ان کے ذمہ دار نہیں اور نہ ان کو پسند کرتے ہیں۔لیکن وہاں نسلی تعصب پایا جاتا ہے۔رنگ دار نسل سے تعصب برتا جاتا ہے اور خود کو وہ بے رنگ اور بالا سمجھتے ہیں۔اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شروع میں وہاں کے رنگ دار زیادہ احمدی ہو گئے اور ان کی وجہ سے Whites میں ہماری تبلیغ کا راستہ بند ہو گیا۔کیونکہ وہ آپس میں ملتے جلتے ہی نہیں۔یہ جو Barrior ہے اور یہ جو بیچ میں دیوار کھڑی ہے، اسے ہم نے پاش پاش کر دینا ہے۔لیکن یہ اپنے وقت پر ہوگا۔اسلام اس رنگ ونسل کے امتیاز کوتسلیم ہی نہیں کرتا۔اسلام تو انسان کی انسانیت کو مقدم رکھتا ہے۔تاہم ان حالات سے ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔اس لئے اس دیوار کو توڑنے کے لئے بھی اور جو whites یعنی سفید فاموں کا یہ حق ہے کہ اسلام کی تعلیم ان کو بھی پہنچائی جائے ، اس کے لئے ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ بعض ایسے علاقوں میں اپنے مراکز قائم کریں، جہاں صرف سفید فام ہی رہتے ہوں۔اس طرح وہاں رنگ ونسل کا سوال پیدا نہیں ہوگا۔جب وہ لوگ احمدی ہو جائیں گے ( اور کچھ احمدی ہو بھی گئے ہیں ) تو ان کا سیاہ فام سے تعصب خود بخود دور ہوتا چلا جائے گا اور آپس میں ملاپ ہو جائے گا۔یہ کام دوشاخوں میں ہوگا۔اس وقت عملاً ایک شاخ کام کر رہی ہے۔لیکن اپنی تبلیغ کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے فعال بنانا پڑے گا۔ایک علاقہ تو ہے۔دوسرے علاقوں کا انتخاب کر کے یہ مہم چلانی پڑے گی اور ان جگہوں پر نئے مشن ہاؤس اور نئے مبلغین بھجوانے پڑیں گے تا کہ سفید فام بھی احمدیت میں داخل ہوں اور پھر ہم تعصب دور کر کے ان کا آپس میں ملاپ کرا دیں۔اس وقت کینیڈا میں جماعت قائم ہے۔مگر یہ بھی زیادہ تر ان دوستوں مشتمل ہے، جو باہر سے جا کر آباد ہوئے ہیں۔وہاں نہ کوئی باقاعدہ مشن ہاؤس اور مسجد ہے اور نہ مبلغ ہے۔وہاں بھی مشن ہاؤس بنا کر احمدیت کی تبلیغ کو مضبوط بنیادوں پر شروع کرنا ہے۔142