تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 137

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم۔خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء اس سلسلہ میں نظر ثانی کرتے رہنا ہے۔پس پندرہ سال کے بعد جو شکل بنے گی ، اس کے مطابق جو بلی سال منایا جائے گا۔جس کی انتہاء جلسہ سالانہ 1989ء پر ہوگی۔انشاء اللہ۔وبالله التوفيق۔ہوگی۔انشاءاللہ۔گزشتہ جلسہ سالانہ پر میں نے جماعت کے سامنے ایک یہ پروگرام رکھنا تھا۔میں کئی ماہ سے سوچ رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ بھی ڈالا کہ جلسہ سالانہ پر باہر کی جماعتوں کے وفود منگوائے جائیں۔وقت کم تھا، ہر ملک سے وفود نہیں آسکے۔صرف چودہ ممالک سے آسکے اور اللہ تعالیٰ نے ان وفود کی جلسہ سالانہ میں شمولیت سے اتنی برکت ڈالی ہے کہ میں حیران ہو گیا۔مثلاً ایک بات کو میں لوں گا ، زیادہ کچھ بیان نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ اس ضمن میں اور بہت سی باتیں کہنا چاہتا ہوں۔پہلی دفعہ امریکن باشندے (وہاں کے پرانے رہنے والے پاکستانی دوست، جو کمانے کے لئے وہاں گئے ہوئے ہیں، وہ نہیں ) جو یہاں وفد کی شکل میں آئے ، وہ سات تھے۔اور یہ امریکن نمائندے وہیں کے باشندے ہیں۔صدیوں سے وہیں رہتے ہیں۔انہوں نے یہاں سے اثر لیا اور اتنا مخلصانہ اثر لیا کہ ان کو دیکھ کر رشک آتا ہے۔مثلاً ایک شخص نے کہا کہ ہم حج پر بھی گئے اور یہاں بھی آئے۔اس وقت ملک کے حالات بوجہ ان علاقوں میں تنزل کے ایسے ہیں کہ ہم نے وہ روحانی غذا جو وہاں ہمیں زیادہ ملنی چاہئے تھی، یہاں آکر حاصل کی۔(حالانکہ یہ جلسہ حج کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔بہر حال ان کا یہ بیان تھا کہ ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ روحانی غذا جو مکہ میں ملنی چاہئے تھی، وہ وہاں نہیں ملی۔اس کا لا کھواں حصہ بھی نہیں ملا۔مگر یہاں ہمیں وہ روحانی سرور مل گیا۔کہیں یہ نہ ہو کہ شیطان ہمارے دماغوں میں یہ وسوسہ ڈالے کہ حج کرنے کی بجائے یہیں جلسہ سالانہ پر آجایا کریں۔کتنی گہرائی میں گیا، اس شخص کا دماغ ؟ اور کیا خطرہ اس کے سامنے آیا؟ اور اس نے اس بات کا برملا اظہار کیا۔اس نے کہا، ہمیں اور آپ کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ حج تو بہر حال حج ہے۔وہاں کے حالات اگر آج ایسے ہیں تو کل بدل جائیں گے۔لیکن وہاں کا جو احترام ہے، وہ جو کل تھا، آج بھی ہے۔وہ تو ہمیشہ سے ہے۔پھر یہاں سے جب وہ واپس گئے تو ایک خاص اثر لے کر گئے۔اللہ تعالٰی کے فضلوں اور انشانوں کو انہوں نے یہاں دیکھا۔جو کچھ سنا تھا، اس سے کہیں زیادہ پایا۔ان کے ایمانوں میں ایک جلا پیدا ہوئی۔چنانچہ وہاں جا کر انہوں نے اپنے دوستوں کو جو باتیں سنائیں، خصوصاً وہاں کے احمدیوں کو تو اس سے وہاں کے احمدیوں کے ذہنوں پر یہ اثر پڑا، جوان کے ایمانوں کی زیادتی کا موجب بنا۔جب ہم نے نصرت جہاں ریز روفنڈ کے عطایا کا مطالبہ کیا تو امریکہ کی ساری جماعت نے کم و بیش 28 ہزار ڈالرز دیے تھے۔اور 28 ہزار ڈالرز میں سے ایک بڑی رقم وہ تھی ، جوان پاکستانیوں نے دی تھی، جو 137