تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 135
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء کے سامنے رکھا گیا تھا، اس میں اور اس میں موافقت اور مطابقت نہیں تھی۔اور اللہ تعالی نے اپنے فضل سے ہمیں یہ سبق دیا کہ جتنی تمہیں ضرورت ہوگی ، وہ تمہیں ملتا چلا جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو، اڑھائی کروڑ کی اپیل تھی مگر اس وقت اس فنڈ میں وعدوں کی رقم ساڑھے نو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔یعنی اپیل سے سات کروڑ روپے( چار گنا ) زیادہ ہو چکی ہے۔بہر حال جو منصوبہ پیش کیا گیا تھا، اس میں تنوع بھی ہے۔کئی قسم کے کام ہیں، جو ہم نے کرنے ہیں۔اور اس میں وسعت بھی ہے۔اس کے لئے کچھ ابتدائی کام بھی کرنے پڑیں گے۔اس کے لئے ایک انتظامیہ بھی چاہئے۔اس کو اس وقت میں دوبارہ مشاورت کے نمائندگان کے سامنے مختصراً پیش کروں گا۔اور پھر میں سمجھتا ہوں کہ اس کو بجائے کسی بڑی سب کمیٹی کے، بارہ دوستوں پر مشتمل شوری کی سب کمیٹی بنا دی جائے ، جو آج دوسری سب کمیٹیوں کی طرح غور کرے اور پھر اپنی رپورٹ اسی شوری میں پیش کرے۔یہ بارہ ممبر اس طرح مقرر ہوں گے کہ ان میں چار، علماء سلسلہ میں سے، چار، بزرگان سلسلہ میں سے، یعنی پرانے بڑی عمر کے تجربہ کار دوستوں میں سے اور چار مخلص نوجوانوں میں سے، جو کام کرنے والے ہوں۔یہ بارہ ممبر اپنے سر جوڑیں اور غور کریں اور پھر مجھے مشورے دیں۔اور انہیں مجلس مشاورت کے سامنے رکھیں۔پھر اور دوست بھی مشورے دیں گے۔بہر حال جو چیز یا جو منصوبہ میں نے جماعت کے سامنے پیش کیا تھا، وہ یہ تھا کہ ہمیشہ ہی حمد اور عزم مسلمان احمدی کی زندگی کا طرہ امتیاز رہتا ہے۔لیکن اس زمانہ میں، جو آئندہ صدی شروع ہونے سے پہلے کے پندرہ سال اور کچھ مہینے رہ گئے ہیں، خاص طور پر ہم نے اس چیز کو سامنے رکھ کر اور کوشش کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو جذب کرنا ہے۔ایک ہم ہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نسلاً بعد نسل ہمارے اوپر اشاعت اسلام کی ذمہ داری ڈالی ہے۔اس عرصہ میں کئی نسلیں کام کرنے والی جماعت میں شامل ہو چکی ہیں۔نئے احمدیوں کی صورت میں پانئے نو جوانوں کی صورت میں Decade انگریزی کا لفظ دس سال کے لئے بولا جاتا ہے۔تو آٹھ ، نو نسلیں تو اس طرح شامل ہو جاتی ہیں۔کیونکہ احمدیت کے قیام پر 86 سال گزر گئے۔پس جماعت احمدیہ کے افراد کو، ان کے بڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی ، مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی تسلسل کے ساتھ ، لگاتار، استقلال اور استقامت کی روح اپنے اندر پیدا کرتے ہوئے خدا تعالی کی راہ میں قربانیاں دینے کی توفیق عطا فرمائی۔اور قربانیاں دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے سامان بھی پیدا کئے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سامان نہ پیدا ہوں تو اگر چہ خواہش تو ہوگی لیکن عملاً کچھ نہ ہو 135