تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 120 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 120

خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم کے حضور پیش کر کے اس کے بندوں پر اس غرض کے لئے خرچ کرتا ہے کہ اس کے جو بندے تو حید پر قائم ہو چکے ہیں، وہ توحید پر قائم رہیں۔یعنی تربیت کے اخراجات ہیں اور اس کے جو بندے تو حید پر قائم نہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت نہیں رکھتے ، وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کریں۔اسے ہم اصلاح وارشاد کا خرچ کہہ سکتے ہیں۔بہر حال جو خرچ تربیت پر ہے یا اصلاح نفوس انسانی کے لئے ہے، اس معنی میں کہ وہ انسان، جو دوری اور بعد میں زندگی گزار رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قرب اور پیارا نہیں حاصل نہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر کے اس کا قرب اور اس کا پیار حاصل کریں۔اس کو ہم اس طرح بیان کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضات کے حصول کے لئے یہ خرچ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں جو خرچ ہوتے ہیں، ان کا ایک حصہ ایسا ہے، جس کے نتیجہ میں الہی سلسلہ میں اتحاد اور پنجہتی پیدا ہوتی ہے۔اور وہ ان کوششوں کے نتیجہ میں بُنيان مرصوص بن جاتے ہیں۔اور ایک حصہ اس خرچ کا ایسا ہوتا ہے کہ جو نوع انسانی میں اختلافات کو دور کرنے کے لئے اور اتحاد کے قیام کے لئے ہوتا ہے۔آخر کار یہ حرکت بھی پہلے حصہ کی طرف ہی ہوتی ہے۔اور جب انسان امت واحدہ بن جائے گا اور اسلام تمام اہم پر غالب آکر نوع انسانی کی ایک امت مسلمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔پس یہ بھی اسی جہت کی طرف حرکت ہے۔توحید کے قیام کے لئے جو کوششیں ہو رہی ہیں، اس سلسلہ میں، میں اس بہت لمبے مضمون کی طرف آج کے خطبہ میں اشارہ کر دیتا ہوں۔یہ بد خیال اور وسوسہ آج کے زمانہ میں انسانی ذہن میں شیطان نے ڈالا ہے کہ اسلام صرف انفرادی عبادات پر توجہ دیتا ہے اور جو اجتماعی ذمہ داریاں ہیں ، ان کو نظر انداز کرتا ہے۔حالانکہ یہ بات حقیقت سے کوسوں دور ہے۔کچھ احکامات اسلامی اجتماعی زندگی اور اجتماعی ذمہ داریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اور جو احکام، جو اوامر انفرادی عبادت کے رنگ میں ہیں، ان میں بھی اجتماعی زندگی کو استوار کرنے کے لئے بہت زبردست سبق ہمیں ملتے ہیں۔اچھے سمجھدار، پڑھے لکھے آدمیوں سے میں نے سنا ہے کہ اسلام بس انفرادی عبادات پر زور دیتا ہے اور اجتماعی ذمہ داریوں سے بالکل اعراض کرتا ہے، اسی وجہ سے دنیا میں فساد ہو جاتے ہیں۔اور ایک نے تو مجھے کہا کہ پچھلے دنوں جماعت کے خلاف جو ہوا ، وہ بھی اسی کا نتیجہ تھا کہ لوگ اسلام کی تعلیم کے مطابق انفرادی عبادات کی طرف توجہ کرتے تھے اور اجتماعی ذمہ داریاں، جو انسان کے انسان پر حقوق ہیں، ان کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔بات یوں نہیں۔بات یہ ہے کہ اسلام نے جہاں ہر فرد واحد کے لئے روحانی ترقیات کے سامان پیدا 120