تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 119 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 119

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1974ء تو حید کو دنیا میں قائم کرنے کا ایک دور تحریک جدید کی شکل میں آیا ہے خطبه جمعه فرموده یکم نومبر 1974ء تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔" آج جمعہ کی عید سے تحریک جدید کا سال نو شروع ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر جہت اور ہر لحاظ سے سارا سال ہی ہمارے لئے مختلف الانواع عیدوں کا اہتمام کرتا رہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے دو مقاصد ہوتے ہیں۔فرمایا:۔وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَتَثْبِيْتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ ایک تو اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا مطلوب ہوتا ہے اور دوسرے انسان خود کوان اخراجات کے ذریعہ، جو وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کرتا ہے، مضبوط کرتا ہے۔سچی بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے اموال کی ضرورت نہیں۔وہ خود خالق اور مالک ہے۔ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، اس کا ہے اور اس کا عطیہ ہے۔ہم فقراء ہیں اور وہ غنی ہے۔ہم محتاج ہیں اور اس کو کسی چیز کی احتیاج نہیں۔ہم اسلام اور مذہب اور اللہ تعالیٰ کی وحی کے محاورہ میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔اس اصطلاح اور محاورہ کی حقیقت ہمارے ذہن نشین رہنی چاہئے۔ہم کہنے کو تو خدا کے حضور پیش کرتے ہیں مگر چونکہ وہ غنی ہے اور اس کو کوئی احتیاج نہیں اور وہ خالق اور خود ہی مالک ہے، اس لئے اس کے حضور پیش کرنے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اس کی رضا ہمیں حاصل ہو۔اور یہ کہ الہی سلسلہ میں ایک مضبوطی پیدا ہو اور نوع انسانی میں ایک حسین اتحاد قائم ہو جائے۔ان کو ہم دو حصوں میں اس وجہ سے تقسیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے اللہ کی راہ میں جو اخراجات ہوتے ہیں، وہ دو قسموں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔اس معنی میں کہ ایک قسم کا خرچ ایک خاص چیز پر زور دے رہا ہے اور دوسری قسم کا خرچ ایک دوسری چیز پر زور دے رہا ہے۔ایک یہ مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جائے۔اس میں زیادہ تر زور روحانیت پر ہے۔اور یہ وہ خرچ ہے، جو انسان خدا 119