تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 116
خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اگست 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد پنجم تعلق ہے، یہ انتاز بر دست طعنہ تھا کہ اس نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا۔چنانچہ میں نے اپنے مبلغین سے مشورہ کیا۔میں نے کہا، جماعت احمد یہ ایک غریب جماعت ہے، جتنی طاقت ہے، اس کے مطابق کام کی ابتداء کر دیتے ہیں۔میں نے مبلغین سے کہا کہ تم یہ اندازے لگاؤ کہ اگر تمہارے ملک کے ہر گھر میں ایک خط پہنچانا ہو، جس میں صرف یہ لکھا ہو کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے جس مہدی کا دنیا انتظار کر رہی تھی ، وہ مہدی آگئے۔جماعت احمدیہ، ان کی جماعت ہے۔اور مہدی یہ بشارتیں لے کر آئے ہیں کہ دنیا میں انسانی شرف قائم کیا جائے گا اور انسانی دکھوں کو دور کیا جائے گا۔غرض میں نے مبلغین سے کہا کہ اس قسم کا ایک مختصر سا مضمون لکھیں ، جو ایک خط مشتمل ہو۔اور اسے ہر گھر میں پہنچا دیں۔تاکہ کم از کم ہر گھر کے مکینوں کے کان میں یہ آواز پڑ جائے کہ مہدی آگئے۔چنانچہ جب اس کام پر خرچ ہونے والی رقم کا اندازہ لگوایا گیا تو ایک چھوٹے سے ملک کا اندازہ سولہ لاکھ روپے تھا۔یعنی صرف ایک ملک کے ہر گھر تک یہ پیغام پہنچانے پر سولہ لاکھ روپے درکار تھے۔ایک اور ملک کے مبلغ نے کہا کہ پندرہ ہیں لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔پھر جب مجموعی اندازہ لگا لیا گیا تو معلوم ہوا کہ صرف اس قسم کے ایک خط کو دنیا کے ہر گھر تک پہنچانے پر کئی ارب روپے کی ضرورت ہے۔اور یہ بھی کافی نہیں۔پھر کچھ اور سوچا۔کیونکہ انسان اپنی طرف سے اپنی عقل وسمجھ کے مطابق تدبیر کرتا ہے۔چنانچہ کچھ اور تدبیریں ذہن میں آئیں۔اور پھر ہمارے ملک میں یہ حالات پیدا ہو گئے۔ہمیں نہیں پتہ اور میں آپ کو سچ بتارہا ہوں کہ مجھے نہیں علم کہ کن فرشتوں نے کہاں کہاں جا کر تاریں کھینچیں کہ دنیا کے ہر انسان نے بلکہ بعض دفعہ دن میں چار چار دفعہ مہدی معہود علیہ السلام اور آپ کی جماعت کا نام سنا۔چند ارب روپے ایک خط پہنچانے پر خرچ ہوتے تھے مگر خدا نے ایسا سامان کر دیا کہ ایک دن میں چار چار، پانچ پانچ بلکہ دس دس دفعہ مہدی علیہ السلام، اسلام اور جماعت احمدیہ کا نام لوگوں کے کانوں میں پڑا۔اخبارات روزانہ لکھ رہے تھے۔ہمارے ہاں رواج نہیں لیکن بہت سے ملکوں میں اخبارات کے قد آدم پوسٹر چھپتے ہیں۔ایک دوست ، جو چند دن کے لئے باہر گئے ہوئے تھے ، وہ جن جن ممالک میں گئے ، وہاں انہوں نے دیکھا کہ ہر صبح اخبارات کے پوسٹر پر جماعت احمدیہ کا ذکر ہوتا تھا۔جب ہم ان دکھوں کو دیکھتے ہیں اور ان تکالیف پر نظر ڈالتے ہیں، جن میں سے اس وقت جماعت گزری ہے تو ہمیں دکھ ہوتا ہے۔اس میں شک نہیں مگر حقیقی احساس درد، جس دل میں پیدا ہو جاتا ہے، وہ اپنے بھائی کا شریک بن جاتا ہے۔اسی لئے جب یہ حالات رونما ہوئے تو ساری جماعت ایک دوسرے کے دکھوں میں شریک ہو گئی۔لیکن جب میں نے یہ سوچا کہ اتنی ہی قربانی لے کر اللہ تعالی نے اپنے 116