تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 115 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 115

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اگست 1974ء پس یہ دونوں باتیں ایکسٹریم(Extreme) پر دلالت کرتی ہیں۔ایک وہ، جو اس منہ سے نکلی ، جس کو اس وقت دنیوی طاقت حاصل ہے۔اور ایک وہ ، جو اس منبع سے نکلی، جسے حقیقی طاقت حاصل ہے۔اور حکم اسی کے پورے ہوا کرتے ہیں۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے، انسان نے اسی کے حکم پورے ہوتے دیکھے ہیں۔ہر مخلوق نے یہی دیکھا کہ حکم اسی کا چلتا ہے۔پس جس ہستی کا دنیا میں حکم چلتا ہے ، وہی کہتا ہے کہ میرے وجود کو آسمانوں سے مٹانے والے میرے وجود کی معرفت حاصل کریں گے اور تب ان کے دل میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتہائی پیار پیدا ہوگا۔اور وہ یہ دیکھ کر خوشی محسوس کریں گے کہ اس پاک وجود کے ذریعہ انہوں نے اپنے رب کریم کو پایا، جو تمام قدرتوں کا سر چشمہ اور تمام طاقتوں کا مالک ہے۔اس کی بنائی ہوئی مخلوق میں مرضی اسی کی چلتی ہے، کسی اور کی نہیں چلتی۔اس لئے تم زمین والوں کو بولنے دو۔ہوگا وہی ، جو آسمانوں نے فیصلہ کیا۔ہوگا وہی، جو ہمارے رب کریم نے ہمیں بتایا ہے۔کتنی زبر دست پیشگوئیاں ہیں ، جو پوری ہو رہی ہیں۔اتنی زبر دست پیشگوئیاں ہیں کہ اگر ہم نے یہ سوچا ہوتا کہ اپنی طاقت یا اپنی کوشش یا اپنی دولت یا اپنے علم یا اپنے زور کے ساتھ ان پیشگوئیوں کو پورا کر لیں گے تو لوگ ہمیں پاگل کہتے۔اور وہ ہمیں پاگل کہنے میں حق بجانب ہوتے۔لیکن ہمارے رب کریم نے جو کچھ کہا، اسے سچا کر دکھایا۔ہم نے تھوڑی سی طاقت خرچ کی اور ذرہ سازور لگایا مگر اس کا نتیجہ خدائے تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اتناز بر دست نکال دیا کہ انسانی عقل حیران ہو جاتی ہے۔ہم ہر وقت سوچتے رہتے ہیں اور دعائیں کرتے رہتے ہیں مگر ہمیں تو کوئی جوڑ کوئی تعلق اپنی کوشش اور اس کا جو نتیجہ نکلا ہے ، اس میں نظر نہیں آتا۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ یورپ کے ممالک ہیں، امریکہ ہے، جزائر ہیں، ان میں سے اکثر وہ علاقے ہیں، جہاں لوگوں نے اسلامی تعلیم کا ایک دھندلا ساخا کہ بھی نہیں پایا۔مخالفین اسلام نے ان کے کان میں جو باتیں ڈالیں ، وہ جھوٹ اور افتراء تھا۔یورپ میں اگر چہ نوجوان نسل عیسائیت کو چھوڑ چکی ہے لیکن ان کے اذہان ان افتراؤں سے پاک نہیں ہوئے ، جو عیسائیوں نے اسلام کے خلاف باندھے تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مطہر ذات بابرکات پر تہمتیں لگائی تھیں۔یہ افتراء اور یہ ناپاک الزامات ابھی تک ان کے دماغ میں رڑک رہے ہیں۔جب میں پچھلے سال مختصر سے دورے پر یورپ گیا تو دو جگہ مجھے یہ طعنہ ملا کہ آپ اسلام کی اتنی حسین تعلیم پیش کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ تو بتائیں کہ ہمارے ملک کے عوام تک آپ نے اس کے پہنچانے کا کیا انتظام کیا ہے؟ یہ طعنہ دینے والا عیسائی تھا یاد ہر یہ یہ تومیں نے نہیں پوچھا۔لیکن جہاں تک اس طعنے کا 115