تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 970 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 970

ارشادات فرموده 31 مارچ 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم آگے آئے۔تا کہ یہ خطرہ نہ رہے کہ کسی ایک کارکن کے چلے جانے یا بیماری کی وجہ سے کام رک جائے گا۔یہ انسانی خاصہ ہے کہ عمر کے ساتھ ساتھ اعضاء کمزور پڑ جاتے ہیں۔تا ہم انسان اصابت رائے سے مشورہ زیادہ دے سکتا ہے۔بعض ضلعی امارتوں کے متعلق مجھے اس قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔بعض کے متعلق مجھے بڑی فکر رہتی ہے مثلاً میر پور خاص ہے۔اس کے متعلق مجھے بڑی فکر رہتی ہے۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں خود ہی کام کرتا رہوں گا۔اس کو یہ یا درکھنا چاہیے کہ اس نے قیامت تک زندہ نہیں رہنا۔لیکن جماعت احمدیہ نے قیامت تک کام کرتے رہنا ہے۔بعض جگہ ٹیم ورک کے طور پر کام انتہائی خوش اسلوبی سے سرانجام پا رہا ہے۔نوجوان اکٹھے مل کر کام کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں کراچی اور سرگودھا کی جماعتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔انہوں نے اپنی جماعت کی اور خصوصاً نو جوانوں کی بڑے عمدہ رنگ میں تربیت کی ہے۔اور بوقت ضرورت ہر آدمی کام کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔وو پس ہر جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ احباب کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائے۔اسی لیے میں نے اپنی عمر میں اس بات کا بہت خیال رکھا ہے۔شاید بعض دفعہ کوئی غلطی بھی کی ہو گی۔اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔خدام الاحمدیہ میں اگر ہر سال مجلس عاملہ کے دس افراد ہیں تو ان کے کام بدل دیے جاتے تھے۔ہر سال کام بدلتا رہتا تھا۔اگر ایک سال کوئی مال کا مہتمم ہے تو اگلے سال اس کو تجنید کا شعبہ دے دیا جاتا تھا۔غرض ہر ایک خادم کو ہر ایک شعبہ کا کام سکھایا جاتا تھا۔پس جہاں اور جس جماعت میں ٹیم ورک نہیں ہے۔بلکہ انفرادی طور پر کام پر زیادہ زور ہے وہاں برکت کوئی نہیں ہوتی۔جہاں آپ کا ٹیم ورک نہیں ہے اور جماعت کے ایک یا دو افراد کی اجارہ داری بن گئی ہے، وہاں نہ صرف کام کے لحاظ سے برکت نہیں بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ یہ صورت انتظام کے لحاظ سے بڑی مہلک ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کام تو اللہ تعالیٰ کا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذریعہ امت محمدیہ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب روحانی فرزند مہدی معہود آ گیا اور قیامت تک کے لیے غلبہ اسلام کی مہم کو چلانا اور اس مہم کے نتائج کی جو حسین شکل ہے اس کو نہایت حسن و خوبی کے ساتھ قائم رکھنے کا کام جماعت احمدیہ کے سپرد ہے۔اگر ساری دنیا احمدی ہو جائے تب بھی آپ کا کام ختم نہیں ہوگا۔پھر اس کے لیے دنیا کو اسلامی معیار پر قائم رکھنے کا کام شروع ہو جائے گا۔لیکن موخر الذکر یعنی تربیت کا کام بالعموم نظروں سے اس لیے اوجھل ہو جاتا ہے کہ یہ نمبر دو پر آیا ہوا ہے۔اصل مہم تو غلبہ اسلام کی ہے۔قادیان کی ایک چھوٹی سی بستی سے نکل کر جماعت احمدیہ کے کاموں نے کتنی وسعت 970