تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 961 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 961

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 26 دسمبر 1973ء مٹادیا کرتی ہیں۔اے ہمارے رب ! جب ہم نے اس منادی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تمام ادیان کو تیری طرف بلانے کی کوشش کی تو مخالفین اسلام کو تو غصہ آنا ہی تھا کیونکہ انکو تو یہ نظر آنے لگا کہ اب پیار کے ساتھ ، دلائل کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور آپ کے روحانی فرزند پر نازل ہونے والے آسمانی نشانوں کے ذریعہ سارے ادیان مٹا دیئے جائیں گے۔اس رنگ میں کہ ان کے ماننے والے حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں گے۔وہ لوگ بھی جن کی چودھراہٹ جاتی تھی یا جن کی قیادت پر ہاتھ پڑتا تھا یا اس وعظ کے نتیجہ میں جن کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ شاید اس طرح ان کی روزی ان سے چھن جائے گی، کیونکہ وہ رب العالمین خدا پر حقیقی ایمان نہیں لاتے تھے انہوں نے بھی اس آواز کو دبانے کے لئے بھر پور کوشش کی حتی کہ ساری دنیا اکٹھی ہوگئی کہ یہ آواز بلند نہ ہو۔مشرق اور مغرب کی طاقتیں اور دنیا کے امیر ترین ممالک اس آواز کو دبانے کے لئے صف آراء ہو گئے۔وہ جو صاحب اقتدار تھے اور ساری دنیا کو اپنے قبضے میں سمجھتے تھے اور اپنے ملکوں سے باہر کے لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے تھے، اس اکیلی آواز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔غرض دنیا کی ساری دولتیں، سارے اقتدار، ساری طاقتیں، سارے ہتھیار اور لوگوں کے ہر قسم کے منصوبے ان کے علم ، ان کے فلسفے ، ان کی سائنس اور ان کی ایجادات اس کیلی آواز کو جو آج سے 80-85 سال پہلے دنیا میں بلند ہوئی تھی، اس کو دبانے کے لئے اکٹھی ہو گئیں۔مگر وہ اکیلی آواز آج لاکھوں انسانوں کی آواز بن کر ساری دنیا کے گرد چکر لگارہی ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔اے ہمارے رب! ہم نے ان واقعات میں تیرے قادرانہ تصرفات کو دیکھا اور ہم اس یقین پر قائم ہوئے کہ جو تجھ سے چمٹ جاتا ہے، وہی سب کچھ پالیتا ہے۔اور جو تجھ سے دور رہتا ہے، اس کی ہلاکت ہے۔اے ہمارے رب! ہم تیرے حقیر اور عاجز بندے ہیں، ہم تیرے کمزور اور بے کس بندے ہیں، ہم تیرے بے یار و مددگار بندے ہیں، ہم تیرے بے زر اور بے مال بندے ہیں۔ہم تیرے قدموں کو پکڑتے ہوئے اور تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے، دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔اے خدا! ہماری ان حقیر کوششوں کی کم مائیگی اور کمزوری کی طرف نہ دیکھ ، اس جذ بہ کو دیکھ ، جو ہمارے دلوں میں سمندروں کی طرح موجزن ہے۔ہمیں ہر لمحہ یہ خیال تڑپاتا ہے کہ کسی طرح تیرے بندے جلد تیری گود میں واپس آجائیں۔وہ ایک لمحہ بھی شیطان کی گود میں نہ رہیں۔اے خدا! تو ہماری ان کوششوں میں برکت ڈال اور آسمان سے فرشتوں کے نزول سے ہماری مددفرما۔جسمانی لحاظ سے بھی ہمیں صحت مند رکھ، ہمارے اندر اپنی محبت کی وہ تپش پیدا کر ، جو اس گہری دھند کو، سردی کی اس شدید لہر کو اور ان آبی 961