تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 957
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ عید الفطر فرمودہ 28 اکتوبر 1973ء رہے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص کے دل میں ایمان کی بشاشت پیدا ہو جائے ، اس کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔اور اصل مسرت اور بشاشت تو دلوں میں پیدا ہوتی اور چہروں سے ظاہر ہوتی ہے۔اسی لئے جماعت احمدیہ کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ دنیا جس طرح چاہے ان کا امتحان لے لے، وہ ان کے چہروں کی مسکراہٹیں ان سے نہیں چھین سکتی۔یہ دنیا کی طاقت میں نہیں۔اس لئے کہ احمدیوں کے چہروں کی مسکراہٹیں اور بشاشت اور مسرت کے جذبات ان کے جسم کی نس نس اور روئیں روئیں سے نکل ہوتے ہیں۔ان کا منبع خدائے قادر مطلق اور قادر وتوانا کی ذات ہے۔اس کے مقابلہ میں جو ابتلاء اور امتحان ہیں، ان کا منبع بھی الہی منشا سے ہے۔یہ تو درست ہے لیکن ان کا تعلق ایک لحاظ سے خدا تعالیٰ کی اس مخلوق سے ہے جن کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ اے خدا ان پر بھی فضل فرما، کیونکہ یہ جوحرکتیں کر رہے ہیں اس لئے کر رہے ہیں کہ یہ سمجھتے نہیں۔نہ یہ اپنا مقام پہنچانتے ہیں۔نہ ان کو اسلام کی عظمت کا خیال ہے۔اور نہ ہی مہدی معہود علیہ السلام کی شان کو پہچانتے ہیں۔حالانکہ مہدی معہود علیہ السلام ساری امت مسلمہ میں سے وہ فرد واحد ہے، جس پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سلام بھیجا۔مگر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور اس کے مقام کو نہیں پہچانتے۔بایں ہمہ ہم ان کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اے خدا جس طرح تو ہمارے لئے یہاں دنیوی جنتوں کے سامان بھی پید کر رہا ہے اسی طرح تو ہمارے مسلمان بھائیوں کے لئے بھی دنیوی جنتوں کے سامان پیدا کرتا کہ پھر ان کے لئے اخروی جنتوں کے سامان بھی پیدا ہو جائیں۔پس ہمارے چہرے تو ہر وقت مسکرانے والے چہرے ہیں۔ہمارے چہروں کی مسکراہٹوں کو چھینے والا کسی ماں نے کوئی بچہ نہیں جنا۔اس لئے کہ ہمارے کان میں ہر لحظہ خدا کے پیار کی آواز پڑتی ہے۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس صبح صادق کی روشنی کو دیکھنے اور پہچاننے کی توفیق عطا فرمائی، جو اسلام کے آخری غلبہ کے لئے مقدر تھی۔پس جس شخص کو ابدی نور کی کرنیں میسر آجائیں ، وہ اندھیروں اور ظلمتوں سے ڈرا نہیں کرتا۔کیونکہ وہ تو خود ایک روشن مینار بن جاتا ہے۔روشن مینار کے گرد ظلمات نہیں آیا کرتے۔نہ اندھیروں کی یلغار جو کبھی منہ (زبان) کے اندھیروں کی کبھی ہاتھ کے اندھیروں کی اور کبھی ظالمانہ منصبوں کے اندھیروں کا روپ دھار لیتی ہے۔وہ نور کے میناروں کے گرد جونور کی فضا ہوتی ہے، اس کو دور نہیں کرسکتی۔بلکہ یہ اندھیرے قریب آنے کی کوشش کرتے اور بھاگ جاتے ہیں۔اس لئے ہمارے چہرے اس آیہ کریمہ کے مطابق آج بھی عید کی اس ظاہری علامت کے طور پر مسفرہ یعنی روحانی مسرتوں سے روشن ہیں۔ہم ہنتے اور مسکراتے ہیں۔ہم خوش و خرم ہیں۔اس لئے کہ ہمیں اپنے رب کریم کا پیار ملا۔957