تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 956
خطبہ عید الفطر فرمودہ 28 اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اوقات دنیا داروں کی کوششوں میں ناکامی کے بعد ان کے چہروں پر انسان کو نظر آتے ہیں۔نہ ہی مومن کے دل میں کوئی گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے۔یہ سوچ کر کہ اب اسے پہلے سے زیادہ قربانیاں دینی پڑیں گی۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم فضلوں کے حصول کے بعد اور ان عظیم رحمتوں کے پالینے کے بعد جن کا حصول قربانیوں کا مرہون منت ہے۔مومن کے چہرہ پر وہی تازگی ، وہی بشاشت، وہی خوشی ، وہی خوشحالی کے آثار اور وہی اطمینان نظر آتا ہے جو اس کے چہرے پر ہونا چاہیے جو اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنے رب کریم کی گود میں گزار نے والا ہے۔اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ تمہارے لئے دو جنتیں تیار کی گئی ہیں۔ایک جنت وہ ہے، جس کا تعلق اسی دنیوی زندگی کے ساتھ ہے اور ایک جنت وہ ہے جس کا تعلق اخروی زندگی کے ساتھ ہے۔یعنی ایک جنت وہ ہے جس میں جنت کے باوجود امتحان بھی ہیں ، ابتلا بھی ہیں، اور آزمائش بھی ہیں۔گویا اس دنیوی جنت میں اللہ تعالیٰ کبھی اموال واپس لے کر آزمائش کرتا ہے۔کبھی ( قرآن کریم کہتا ہے ) دوسروں کی زبانیں تمہارے لئے ایذا رسانی کے سامان پیدا کریں گی۔کبھی اسلام کہتا ہے، تمہارا امتحان تمہارے خونوں کی قربانی سے لیا جائے گا۔کبھی خدا تعالی فرماتا ہے ہم تمہارے جذبات کو ابتلاء میں ڈال کر تمہارا امتحان لیں گے۔کبھی کہتا ہے کہ تمہیں اپنے بیوی اور بچوں کی قربانی دے کر میرے امتحان پر پورا اترنا ہوگا۔بھی کہتاہے تہاری دوستیں چھین لی جائیں گی لیکن تمہارے چہروں کی مسکراہٹیں نہیں۔چھینی جاسکیں گی۔کبھی کہتا ہے تمہیں یہ قربانی دینی پڑے گی اور کبھی قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ایک دوسری قسم کی قربانی دینی پڑے گی۔مگر ان ساری قربانیوں کے باوجود، ان سب ابتلاؤں اور امتحانوں کے ہوتے ہوئے اس دنیوی زندگی کو جنت کہا گیا ہے۔اور یہ ایک سوچنے والی بات ہے ایک مومن تو اسے جنت محسوس کرتا ہے کیونکہ یہ سارے ابتلاء اور امتحان اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے پیار کواور بھی تیز کرنے والے ہیں۔جس شخص کے دل میں یہ یقین ہو کہ وہ اپنے رب کریم سے اس کی رضا اور پیار کو حاصل کر رہا ہے۔وہ ان ابتلاؤں اور ان امتحانوں اور ان قربانیوں کو کوئی چیز ہی نہیں سمجھتا۔وہ ان کو اپنی راہ کے کانٹے نہیں سمجھتا۔بلکہ وہ ان کو اپنے راستے کے پھول پاتا ہے۔کیونکہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے بڑے حسین جلوے اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔اسی لئے جو الفاظ اس جنت کے متعلق کہے گئے ہیں جو اس زندگی کے بعد آنے والی ہے، قرآن میں وہی الفاظ اس دنیوی زندگی کی جنت کے متعلق بھی کہے گئے ہیں اور وہ یہ ہیں : وُجُوهٌ يَوْمَبِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةً مُّسْتَبْشِرَةٌ 8 (عبس 39,40) یعنی کچھ چہرے روحانی مسرتوں سے اس دن روشن ہوں گے ہنستے مسکراتے اور خوش و خرم ہوں گے۔956