تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 947
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 19 اکتوبر 1973ء تو مسجد میں اچھی خواہیں دیکھ لیں گے۔اس لئے چھوٹے بچوں کو مسجد میں آنے سے روکنا نہیں چاہیے، مسجد کے ساتھ ان کا پیار قائم رہنا چاہیے۔غرض میں بتا یہ رہا ہوں کہ ہم علام الغیوب تو نہیں بن سکتے۔لیکن ہمیں اس صفت کا مظہر بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں۔چنانچہ ساری دنیا کے حالات وغیرہ جاننے کے سلسلہ میں باہمی خط و کتابت یعنی قلم دوستی کی جس سکیم کا میں نے اعلان کیا ہے، اس سے علم بڑھے گا۔دوست ایک دوسرے سے خطوط کے ذریعہ مختلف کام سیکھیں گے۔مختلف حالات اور واقعات سے آگاہ ہوں گے۔مثلاً لوگ افطاری کس چیز سے کرتے ہیں۔اب مثلاً کھجور ہے یہ ہمارے روزے کی افطاری کا ایک نشان ہے۔بعض جگہ کھجوریں مل جاتی ہیں۔لیکن کئی گھروں میں کھجور میسر نہیں آتی۔کئی ملکوں میں کھجور پیدا ہی نہیں ہوتی۔ڈبوں میں بند بھی نہیں ملتی یا یہ کہ لوگ کھانا کیا کھاتے ہیں۔غرض اس قسم کی بے شمار معلومات بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔میں جب 37-1936ء میں انگلستان میں پڑھا کرتا تھا، تو ایک دفعہ میں نے ایک انگریز دیہاتی بچے سے پوچھا تم نے کل شام کو کیا کھایا تھا۔کہنے لگا، ابلے ہوئے آلو۔میں نے کہا تم نے کل دوپہر کو کیا کھایا تھا۔کہنے لگا، ابلے ہوئے آلو۔پھر میں نے پوچھا تم نے کل صبح ناشتہ کس چیز کا کیا تھا۔کہنے لگا، ابلے ہوئے آلو۔گویا وہ سارا دن ابلے ہوئے آلو استعمال کرتا رہا۔اس سے مجھے پتہ لگا کہ جس طرح یہاں کا غریب آدمی روکھی روٹی کھاتا ہے، وہاں کے غریب لوگ آلو ابال کر کھا لیتے ہیں۔روکھی روٹی میں تو پھر بھی کچھ مزہ ہوتا ہے، لیکن ابلے ہوئے آلوؤں میں تو کچھ بھی مزہ نہیں ہوتا۔معلوم ہوا وہ بیچارے بڑے ہی غریب لوگ تھے۔یہاں تو لوگ روکھی روٹی سالن کی عدم موجودگی میں نمک مرچ کی چٹنی کے ساتھ کھا لیتے ہیں۔لیکن وہاں تو لوگ صرف نمک لگا کر آلو کھا لیتے ہیں۔تاہم اب وہاں کی یہ حالت نہیں ہے۔اب تو وہاں کا غریب آدمی بھی اتنا کھاتا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ گویا پہلوان بنا ہوا ہے۔دراصل وہ لوگ اقتصادی لحاظ سے بڑی ترقی کر گئے ہیں۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں اور مفید بھی۔اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ مختلف ملکوں میں کیا پکتا ہے اور کیا کھایا جاتا ہے اور لوگوں کی عادتیں کیسی ہیں وغیرہ۔میں نے 1970ء میں جب مغربی افریقہ کا دورہ کیا، تو مجھے معلوم ہوا کہ افریقہ میں لوگ میٹھا نہیں کھاتے۔چنانچہ سیرالیون کے گورنر نے ہماری دعوت کی۔ہم نے ان کی جوابی دعوت کی۔جس میں میں نے منصورہ بیگم سے کہہ کر بڑے پیار سے گورنر صاحب کی خاطر ایک ایسا میٹھا کھانا تیار کروایا۔جو صرف 947