تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 946 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 946

خطبہ جمعہ فرموده 19 اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خدا تعالیٰ کی صفات سے متصف ہونا، ہماری زندگی کا ایک بنیادی مقصد ہے اور اس کا ہمیں بنیادی طور پر حکم بھی دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی قرآن کریم کی ی تعلیم پیش کی ہے۔آپ سے پہلے جتنے بزرگ گزرے ہیں، وہ بھی یہی تعلیم پیش کرتے رہے۔اور آپ کے بعد بھی یہی پیش کر رہے ہیں کہ ہم نے اپنے اوپر صفات باری کا رنگ چڑھانا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ایک صفت اس کا علام الغیوب ہونا ہے۔یعنی اس کائنات کی کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ہم نے بھی اس صفت سے متصف ہونا ہے، مگر ایک محدود دائرہ کے اندر۔ہم پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ خدائے علام الغیوب کی طرح کوئی چیز بھی ہم سے بھی پوشیدہ نہ ہو۔لیکن ہم پر یہ ذمہ داری ضرور ہے کہ اپنی استعداد کے مطابق جتنی غیب کی چیزیں حاضر میں لائی جاسکتی ہیں، اتنی حاضر میں لانی یا ہمارے علم میں آنی چاہئیں، اور اس طرح ہمارا علم بڑھنا چاہیے۔پس اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم کتابیں پڑھنے والی قوم ہیں۔ہم علمی باتیں سننے والی قوم ہیں۔ہم با ہمی تبادلہ خیال کرنے والی قوم ہیں۔ہم دوسروں سے کہیں زیادہ اور بلا جھجک سوال کرنے والی قوم ہیں۔ہمارے دل میں اگر کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو ہم بلا جھجک اس کا حل تلاش کرنے والی قوم ہیں۔آپ باہر نکلیں تو پتہ لگتا ہے کہ جماعت کی علمی استعداد کہاں تک پہنچی ہوئی ہے۔اس سفر میں مجھے بعض دفعہ پریس کانفرنسوں میں یہ کہنا پڑا کہ مجھ سے حجاب کی کیا ضرورت ہے۔میں تو ایک درویش آدمی ہوں۔تمہارے دل میں جو سوال پیدا ہوتا ہے، وہ کرو تا کہ ہر قسم کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔لیکن بعض دفعہ میں یہ محسوس کرتا تھا کہ کچھ صحافی جھجک محسوس کر رہے ہیں۔حالانکہ ہم تو سیدھے سادھے لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا ایک پہلوان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (ص: 87) اس لئے کسی قسم کا تکلف نہیں چاہیے۔پیار سے باتیں کرنی چاہئیں۔بعض لوگ پیار سے جواب دیتے ہیں۔بعض جواب نہیں بھی دیتے ہوں گے۔وہ غلطی کرتے ہیں۔پیار سے جو سوال کیا جائے ، اس کا پیار سے جواب ملنا چاہیے۔ورنہ علم نہیں بڑھتا۔تاہم اس کے لئے پیار کا ماحول اور پیار کی فضا پیدا کرنی ضروری ہے۔یہاں تک کہ جو چھوٹے بچے مسجد میں آجاتے ہیں اور بعض ان میں سے سو بھی جاتے ہیں۔ان کو جگانا نہیں چاہیے۔وہ کچھ باتیں سن لیتے ہیں۔کچھ لیٹے لیٹے ان کے کان میں پڑ جاتی ہیں۔اور نہ سہی 946