تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 942
خطبہ جمعہ فرموده 119اکتوبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم افریقن زبانیں بولی جاتی ہیں ، وہ بھی سیکھنی چاہئیں۔ہمارے مبلغین جو وہاں سے آتے ہیں وہ اگر یہ زبانیں جانتے ہوں تو ان سے کام لیا جا سکتا ہے۔بہر حال یہ کام نہیں کرنا پڑے گا۔یہ تو ٹھیک ہے کہ اس پر کچھ وقت تو ضرور لگے گا لیکن وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاعَدُّوا لَهُ عُدَّةً کی روح سے ہمارے اس ارادے کی عملی شکل بھی ظاہر ہونی چاہیے۔پس جب ہم نے یہ ارادہ کر لیا ہے تو اب خدا تعالیٰ کی راہ میں کسی چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی ترک نہیں کرنا جو غلبہ اسلام کی اس مہم میں مفید اور مد و معاون ہو۔تاہم اس وقت میں زبانوں کے سیکھنے کے بارے میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔اس سلسلہ میں ایک منصوبہ میرے ذہن میں ہے، جسے بروئے کارلانے کے لئے جلد عملی قدم اٹھایا جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ جہاں تک جلسہ سالانہ پر بیرون ملک سے احمدی احباب کا وفود کی شکل میں آنے کا تعلق ہے، اس سال چونکہ جلسہ سالانہ میں بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے اس لئے میں ابھی اس کو لازمی قرار نہیں دیتا۔لیکن جہاں تک ممکن ہو تحریک جدید پورا زور لگائے کہ ملک ملک سے دوست وفود کی شکل میں تشریف لائیں۔جن میں زیادہ تر مقامی باشندے ہوں۔یعنی یہ نہ ہو کہ ہمارے پاکستانی دوست جو باہر گئے ہوئے ہیں اور وہ وہاں پیسے کما رہے ہیں اور انہوں نے اپنی چھٹی کا ایسا انتظام کیا ہوا ہے کہ وہ جلسہ سالانہ پر آجائیں ، ان کو وفد میں شامل کر لیا جائے یا صرف انہی سے وفد تشکیل کر لیا جائے۔ٹھیک ہے اگر ایسے دوست کی نیت نیک ہے تو چونکہ خدا تعالی بڑا دیا لو ہے ، وہ اس کی نیک نیتی اور قربانی کی اسے بہترین جزاء عطا فرمائے گا۔لیکن جو بات میں کہہ رہا ہوں ، وہ یہ ہے کہ ایسے وفود آئیں جن کا مقصد صرف جلسہ سالانہ کی برکات سے متمتع ہونا ہو اور جو فوراً واپس بھی چلے جائیں۔مگر چھٹی پر آنے والے دوستوں کے کئی مقاصد ہوتے ہیں۔مثلاً پچھلے سال جلسہ سالانہ اور حج اور پھر واپس گھر پہنچنے کے درمیان قریباً ڈیڑھ دو مہینے کا فرق تھا۔چنانچہ کئی دوست بیرونی ممالک سے تشریف لائے۔انہوں نے جلسہ سالانہ سنا اور پھر فریضہ حج ادا کرنے کی سعادت بھی پائی۔یہ ایک بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔ہمارے اکثر دوست جن کے حج کی راہ میں جہالت اور غفلت آڑے نہیں آتی یا قرآن کریم سے لاپرواہی کے نتیجہ میں جن پر حج کی راہیں بند نہیں کر دی جاتیں، وہ حج کرتے ہیں اور ثواب پاتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مانتے ہیں اور اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مکہ مکرمہ میں پہنچ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو احسن جزاء عطا فرمائے۔یہ اپنی جگہ ایک بہت 942