تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 926
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 28 ستمبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم تاہم یورپ میں تبلیغ کے پروگرام کے کچھ حصے کو میں اپنے خطبات میں بتاؤں گا۔اب ایک ہی وقت اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل فرمایا کہ میرے سامنے یہ دو منصوبے آگئے۔جن کا آپس میں بھی بڑا گہرا تعلق ہے۔اور ویسے ایک کا تعلق صرف یورپ سے ہے اور دوسرے کا ساری دنیا اور تمام بنی نوع انسان سے ہے۔کچھ حصے جو اس بڑے منصوبے سے بلاواسط تعلق نہیں رکھتے ، وہ بتادوں گا کہ بالواسطہ کیا تعلق رکھتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے، پریس کانفرنس کے دوران دو جگہ ایک سوال کیا گیا۔اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا اور سوچنے کے نتیجہ میں بہت سے کوائف معلوم کیے۔میں نے مبلغین کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ فلاں فلاں معلومات حاصل کر کے مجھے بھیجو۔کیونکہ یہ ہے بڑا ظلم کہ مہدی معہود علیہ السلام آگئے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اسلام کو غالب کرنے کی بنیا درکھ دی۔مگر اب تک تبلیغ کا دائرہ وسیع نہ ہو سکا۔جس کی وجہ سے دنیا کا وہ حصہ جو اس وقت خدا سے بہت دور ہے، اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ باتیں تو اچھی ہیں۔اسلام ہمارے مسائل حل تو کرتا ہے لیکن ہمارے عوام تک ان باتوں کے پہنچانے کا کیا انتظام کیا ہے؟ پس یہ سوال بنیاد بنی، اس یورپین منصوبہ کی، جس کا ایک حصہ آپ کے سامنے آجائے گا۔اس کے لئے آپ کو انتظار کرنا پڑے گا۔علاوہ ازیں ہم نے اس سفر میں خدا کے بڑے فضل دیکھے۔اس کی رحمتوں کو دیکھا چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کو پایا اور بڑی بڑی باتوں میں بھی اس کی صفات کے حسین جلوے دیکھے اور اس کے قادرانہ تصرفات کا مشاہدہ کیا“۔۔۔۔پھر دوست یہ بھی دعا کریں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا جو مقصد ہے، یعنی ساری نوع انسانی کو امت واحدہ بنا کر ایک خاندان بنا کر اور پیار اور محبت کے بندھنوں میں باندھ کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔جماعت احمد یہ کو اس مقصد کے پورا کرنے کے سامان جلد میسر آجائیں۔اور ہماری حقیر اور نا چیز کوششوں میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالے۔ہماری زندگیوں ہی میں وہ مقصد پورے ہو جائیں یا ان مقاصد کے پورا ہونے کی ہمیں ایک جھلک نظر آ جائے۔ہم خوشی اور بشاشت کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوں کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو ایک حد تک عاجز بندے ہونے کے باوجو د نباہ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی اس کی توفیق عطا فرمائے“۔مطبوعه روزنامه الفضل 04 نومبر 1973 ء) 926