تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 76 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 76

خطاب فرمودہ 12 اکتوبر 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یقین تھا کہ وہ سمجھتا تھا، دنیا جو مجھے سمجھے۔عقل جو فیصلہ کرے، کرے۔بات وہی صحیح ہے، جو خدا تعالیٰ کہہ رہا ہے۔یعنی اسلام دوسرے تمام ادیان پر غالب آکر رہے گا۔اور ہوا بھی وہی، جو خدا تعالیٰ نے کہا تھا۔غیب سے اسلام کے غلبہ کے سامان پیدا ہونے شروع ہو گئے۔اور وہ بات جو دوسروں کو کچھ عرصہ پر نا ممکن نظر آ رہی تھی ممکن ہو گئی۔اور دنیا بھی اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی۔، پھر دنیا نے یہ نظارہ دیکھا کہ خدا تعالیٰ کا وہ مامور ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) اکیلا نہیں رہا بلکہ لاکھوں آدمی اس کے ساتھ ہو گئے۔اور اس وقت اس کے ماننے والے نہ صرف ایشیا میں پائے جاتے ہیں بلکہ دوسرے براعظموں میں بھی پائے جاتے ہیں۔چنانچہ افریقہ کو ہی لے لو۔افریقہ کے کئی ممالک میں اس کی جماعت قائم ہوگئی۔اور سینکڑوں نہیں ہزاروں آدمی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت کی وجہ سے اور خدا تعالیٰ کے ان کے وعدوں کے مطابق، جو اس نے آپ سے یا آپ سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے کہ جب اسلام تنزل میں پڑے گا تو اس کی ترقی کے سامان بھی ہو جائیں گے، بت پرستی ، عیسائیت اور بدمذہبیت کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔اب دیکھو، ایک بات جو بظاہر ناممکن نظر آتی تھی کس طرح ممکن بن گئی؟ اسی طرح مشرقی افریقہ میں سکول قائم کرنے بھی ناممکن نہیں۔جب تک ہم اسے ناممکن خیال کرتے رہیں گے، ہمیں کامیابی نصیب نہیں ہوگی۔جہاں تک اسلام کی ترقی کا سوال ہے، ہمارے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں۔ہمیں خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنا ہے۔اور اس مقصد کے حصول کے لئے جوتد بیر بھی ہمارے ذہنوں میں آسکتی ہے اور دعاؤں کے نتیجہ میں اس کے متعلق ہمارے دلوں میں انشراح پایا جاتا ہے، ہمیں وہ تدبیر اختیار کرنا ہوگی۔اگر خدا تعالی کا ارادہ اور منشاء اسی میں ہو کہ غلبہ اسلام کے لئے ظاہری سامانوں سے بھی کام لیا جائے تو ظاہری سامانوں کا حصول بھی ہمارے لئے ممکن ہوگا۔پس جب تک خدا تعالیٰ کسی امر کو غیر ممکن قرار نہیں دیتا ہمیں اسے نا ممکن نہیں سمجھنا چاہئے۔ورنہ آدمی خود اپنے رستہ میں روک بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ہمارے پاس د نیوی سامان کبھی موجود نہیں تھے۔ہمارے پاس آدمی کم ہیں، پیسے کم ہیں ، ظاہری علم کی بھی کمی ہے۔غرض ہم ہر لحاظ سے غریب ہیں۔لیکن پھر بھی دیکھو اللہ تعالیٰ ہمارے کام خود بخو دکر رہا ہے۔میں تو جب مرکز کی گلیوں میں آپ ( مکرم مولوی عبد الکریم صاحب شرما) کو دیکھتا ہوں تو مجھے خدا تعالی کی شان نظر آتی ہے۔میں جب آپ کو دیکھتا ہوں یا حکیم محمد ابراہیم صاحب کو دیکھتا ہوں تو خیال کرتا 76