تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 910 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 910

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جولائی 1973ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاعَدُّوا لَهُ عُدَّةً ( التوبة :46) کہ کسی کام کے کرنے سے پہلے بڑی تیاری کرنی پڑتی ہے۔اگر چہ یہ منافقوں سے کہا گیا ہے کہ اگر تمہیں جہاد میں شامل ہونا تھا، تو جہاد میں شامل ہونے کے لئے جس قسم کی تیاری کی ضرورت تھی ، وہ تمہیں کرنی چاہئے تھی۔تا ہم اس میں ایک اصول یہ بتایا گیا ہے کہ جس قسم کا کام ہوتا ہے، اس قسم کی پوری تیاری کرنی چاہئے۔کسی کام کی تیاری کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ کام کرنے کی نیت ہے۔اگر کوئی شخص مثلاً جمعہ کی نماز میں شامل ہونے کے لئے (چھوٹی سی مثال لیتا ہوں تا کہ چھوٹے بچے بھی سمجھ جائیں) یہ کہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ جمعہ میں شامل ہوں۔اب وہ جمعہ کی نماز میں شامل تو ہونا چاہتا ہے، مگر یہاں جمعہ ہوتا ہے، ڈیڑھ بجے۔سوائے اس کے آج میں آ گیا ہوں اور وقت بدل دیا ہے اور آپ کو نصف گھنٹے تک انتظار کروایا ہے۔بہر حال اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ڈیڑھ بجے سے پہلے کھانا کھا لے۔اس کا مطلب ہے ہے کہ وہ ڈیڑھ بجے سے پہلے غسل کر کے نئے کپڑے پہن لے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھر سے ایسے وقت چلے کہ ڈیڑھ بجے سے پہلے پہلے احمد یہ ہال میں پہنچ جائے۔اگر ایک گھنٹے کا راستہ ہے اور کوئی شخص یہ کہے کہ جمعہ میں شامل ہونے کی میرے دل میں تو اتنی خواہش ہے اور نہ شامل ہو کر مجھے اتنا دکھ ہوتا ہے کہ کراچی میں کسی احمدی کے دل میں جمعہ چھوڑنے پر اتنا دکھ نہیں ہوتا۔اب وہ دعوئی تو یہ کرے لیکن گھر میں بیٹھا ر ہے اور جب ڈیڑھ بجے جائے تو سستی سے آنکھیں ملتا ہوا نیم دلی سے وضو کرے اور کپڑے بدلے اور کہے دیر ہوگئی ہے۔اب نہانا چھوڑتا ہوں اور پون گھنٹہ اسے اپنے گھر سے یہاں پہنچنے میں لگتا ہو تو جمعہ جو ایک فرض نماز ہے، اس میں تو وہ شامل نہیں ہو سکے گا اور ممکن ہے وہ اپنے دل کو طفل تسلی دینے کے لئے یہ کہہ دے کہ اوہو! بڑی دیر ہوگئی ہے۔بہن نے جمعہ ملنا ہی نہیں ، ہن جان دا کی فائدہ اے۔کوئی گل نہیں ، گھر میں بیٹھ جاندے آں۔پس جس آدمی کی کام کرنے کی نیت ہو، وہ اس کے لئے تیاری کیا کرتا ہے۔ایک چھوٹی سی اور مثال دے دیتا ہوں۔جس عورت یا جس بیوی کی یہ خواہش ہو کہ وہ اور اس کا میاں اور بچے بھوکے نہ رہیں۔تو وہ چولہا جلاتی ہے۔گرمیوں کے دنوں میں تکلیف اُٹھاتی ہے۔آگ کے سامنے بیٹھتی ہے اور سالن تیار کرتی ہے اور روٹیاں پکاتی ہے۔لیکن اگر کوئی عورت ( اور ایسی عورتیں ہیں ہمارے سامنے ان کے واقعات آتے رہتے ہیں) یہ کہے کہ مجھے تو اپنے میاں اور بچوں کا بڑا خیال ہے۔لیکن میں گرمی برداشت نہیں کر سکتی۔910