تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 874 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 874

تقریر فرمودہ 102 اپریل 1972ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ی اللہ تعالی کا عظیم فضل ہے کہ ہم اس کا کماحقہ شکر نہیں کر سکتے۔ہماری زبانیں الحمد للہ پڑھتے ہوئے خشک ہو جا ئیں ، تب بھی الحمد للہ پڑھنے کی جو ذمہ داری ہے، وہ پوری نہیں ہوتی۔پس نصرت جہاں کی جو سکیم ہے، یعنی LEAP FORWARD جس کا ترجمہ آگے بڑھو سکیم کیا گیا ہے، اسے بھی کچھ بدلنا پڑے گا۔گویا نصرت جہاں آگے بڑھو میں نصرت جہاں سکیم کا نام ہے اور وہ ایک شعبے کا نام ہے۔ایک نصرت جہاں ریز روفنڈ اور دوسری نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم ہے۔ہم نے ایک جگہ کھڑا نہیں ہونا، اس سکیم کے ماتحت تیزی سے آگے بڑھنا ہے۔اگر قانونی روکیں پیدا نہ ہو جائیں تو میں کہتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ آٹھ، نوڈاکٹر تو شاید ہم فوری طور پر چند مہینوں کے اندر اندر بھجوا سکیں۔لیکن پچھلی جنگ کی وجہ سے ہمارے ملک کو ڈاکٹروں کی ضرورت پڑی۔کچھ ہمارے واقفین ڈاکٹر ، جو بڑے لائق اور مخلص ہیں، لاہور میں ہاؤس جاب (HOUSE JOB) کر رہے تھے۔ان کو فوج نے بلا لیا ہے۔وہ میرے پاس آئے ، کہنے لگے، ہم نے زندگی وقف کی ہوئی ہے، اب فوج نے بلا لیا ہے، کیا کریں؟ میں نے کہا تم انٹرویو کے لئے جاؤ اور ان سے صاف بات کرو۔کیونکہ ہم صاف گو لوگ ہیں۔ان سے کہو ، آپ نے بلایا ہے ، ہم آگئے ہیں۔لیکن ہم نے وقف کیا ہوا ہے اور افریقہ میں جا کر سیاہ فام قوموں کی خدمت کرنی ہے۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی پاکستان کی خدمت ہے۔کیونکہ اس طرح پاکستان کا نام روشن ہوتا ہے، پاکستان کی محبت دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔لیکن ہم اس بارہ میں امام جماعت احمدیہ سے مشورہ کرنے گئے تھے، انہوں نے کہا ہے کہ ان سے جا کر کہہ دو کہ اگر پاکستان کو ضرورت ہے تو اپنے ملک کو بہر حال ترجیح دی جائے گی۔اور اگر آپ کو ایسی ضرورت ہو، جو وقتی طور پر ہوتو ہم اپنی خدمات قوم اور ملک کے لئے وقف کرتے ہیں۔اس عرصہ کے ہم پیسے نہیں لیں گے، مفت خدمت کریں گے۔ایک جرنیل صاحب کے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ ایسی باتیں استثنائی ہیں۔یعنی اس قسم کی باتیں جو تم کر رہے ہو ، شاذ ہی تجربہ میں آتی ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ ایسی استثنائی باتیں ہمیں ہمیشہ جماعت احمد یہ میں نظر آتی ہے۔چنانچہ اس کا ان پر بڑا اثر ہوا۔ہمیں کسی دنیوی جزا کی ضرورت نہیں ہے۔یہ ہمارا ملک ہے، جس میں ہمیں اچھا کہنے والے بھی ہیں اور برا کہنے والے بھی ہیں۔لیکن ہم نہ کسی سے برا کرنے والے ہیں اور نہ کسی کو برا کہنے والے ہیں۔ہمیں حکم ہے کہ بنی نوع انسان سے پیار کرو اور ان کی خدمت کرو۔جب تک ہم اس حکم کے مطابق کام کریں گے ، اللہ تعالیٰ بڑی برکت نازل فرمائے گا“۔رپورٹ مجلس شوری منعقدہ 31 مارچ تا 2 10 اپریل 1972 ء ) 874