تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 865
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم نصرت جہاں آگے بڑھو تقریر فرموده 102 پریل 1972ء تقریر فرمودہ 102 اپریل 1972ء برموقع مجلس مشاورت۔۔۔پھر میں نے بتایا ہے کہ ہمارے اس منصوبے میں قرآن کریم کو اصل لاگت پر فروخت کرنا ہے۔اصلاح وارشاد نے بھی قرآن کریم چھاپے ہیں مگر اس میں انہوں نے نفع رکھا ہوگا۔ہمارے انگریزی اور اردو ترجمہ قرآن میں، میں نے کہا ہے، کوئی نفع نہیں رکھنا۔کیونکہ بہت سے کام ہیں، جن کو ہم رضا کارانہ طور پر لے کر خرچ کو کم کر دیتے ہیں، تب ہی یہ چھ روپے میں ملتا ہے۔جو حمائل ہے، اس میں مجبوراً کچھ نفع رکھا ہے۔وہ نفع ہے ، صرف اٹھنی کا۔اب اٹھنی تو کوئی ایسا نفع نہیں ہے۔اور اٹھنی اس لئے رکھا ہے کہ وہ چونکہ پیر صاحب کا لکھا ہوا ہے اور وہ ان کے خاندان کی ملکیت ہے، ان سے اجازت لے کر شائع کیا گیا ہے۔میں نے وعدہ کیا تھا کہ ایک چونی فی نسخہ حق ملکیت کی رائلٹی (Royalty) کے طور پر ادا کروں گا۔چونی ان کے لئے ہے اور چونی اپنے لئے ہے۔کیونکہ اس وقت میرے منہ سے نکل گیا تھا کہ نفع کا نصف تمہیں دوں گا۔اس لحاظ سے چونی اپنے پاس رکھنی پڑتی ہے۔اور یہ نفع بھی قران کریم کی اشاعت پر خرچ ہوتا ہے۔یہ چونی نفع کی مد میں نہیں جائے گی بلکہ قرآن کریم کی مفت تقسیم کی مد میں جائے گی۔باقی تراجم پر ایک دھیلے کا نفع نہیں ہے۔دنیا حیران ہے۔ہمارے ایک مربی ایک ریلیجس بکس سوسائٹی کے ہاں گئے تو کہا کہ میں نے بائبل خریدنی ہے۔تمہارے پاس جو سستی ترین بائبل ہے، وہ مجھے دکھاؤ۔انہوں نے سستی ترین بائبل دکھائی، جو چھ روپے کی تھی۔اور وہ قریبا اس طرح کی تھی ، جس طرح کا ہمارا تین روپے والا قرآن کریم ہے۔ہمارے دوست کہنے لگے، ہم آپ سے جیت گئے۔آپ نے چھ روپے میں سنتی بائبل فروخت کرنی شروع کی ہے اور ہم نے تین روپے میں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ شائع کر دیا ہے۔وہ ( ان کا جو بھی نمائندہ یا سیلز مین تھا) کہنے لگا، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ یہ ہوسکتا ہے یا نہیں ہو سکتا ؟ یہ تو الگ مسئلہ ہے۔مگر یہ امر واقعہ ہے کہ تم اگر ہزار کا پی کا آرڈر دو تو میں ابھی لا کر دیتا ہوں۔غرض ہم نے ان سے آگے نکلنا ہے۔کیونکہ انہوں نے لوگوں کو گمراہ کرنے کی اور بھی بہت ساری ترکیبیں کی ہوئی ہیں۔ان 865