تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 863 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 863

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ارشادات فرمودہ 102 اپریل 1972ء جو اپنے آپ کو وقف کا اہل ثابت کرے گا ، وہی وقف میں رہے گا ارشادات فرمود 0 2 10 اپریل 1972 ء بر موقع مجلس مشاورت وقف اور جامعہ احمدیہ کے قواعد میں نرمی کی تجویز پر حضور نے فرمایا:۔وو نہیں ! نالائق ، نااہل، جاہل علم سے بے بہرہ اور علم سے دلچسپی نہ لینے والوں کے راستے میں روک بنے گا، واقفین کے راستے میں روک نہیں بنے گا۔جو فیل ہو جاتا ہے، وہ اس قابل نہیں کہ اسے جامعہ میں رکھا جائے۔آپ ایک سال کے بعد فیل ہونے کی بات کر رہے ہیں، آکسفورڈ میں ایک ٹرم کے بعد واپس بھیج دیئے جاتے تھے کہ تم یہاں نہیں پڑھ سکو گے۔سلسلہ احمدیہ کو اور خدا کو ایسے بچوں کی ضرورت ہی نہیں ہے، جن میں علم کے لئے اور قیادت کے لئے دماغ نہیں ہیں۔جو نیت ہے، اس پر کسی کو اعتراض نہیں۔باپ نے اپنی نیت کا ثواب خدا سے حاصل کرنا ہے۔لیکن باپ کے خلوص نیت کا سارا بار جونگی پیدا کرنے والا اور مصیبت کھڑی کرنے والا ہے، اس کو جماعت نہیں اٹھائے گی۔انہوں نے ایک مثال دی ہے۔پچھلے سال شاید ہم نے دس، بارہ لڑکے نکالے ہیں۔یہاں کوئی ایسا لڑکا نہیں رہے گا، جو تعلیم حاصل کرنے کا اہل نہیں ہے۔باقی ثواب کا میں ٹھیکیدار نہیں ہوں۔وہ تو اسے اللہ تعالیٰ نے دینا ہے۔جن کے دل میں خلوص ہے، وہ اس کا ثواب اپنے رب سے حاصل کریں گے۔لیکن جو ہماری ذمہ داریاں ہیں اور جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا:۔ان تُؤَدُّوا الْاَ مُنْتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء:59) خدا تعالیٰ کا یہ حکم نہیں توڑا جائے گا، نہیں تو ڑا جائے گا۔جولڑ کا اپنے آپ کو وقف کا اہل ثابت کرے گا ، وہی وقف میں رہے گا۔باقی دوسرے کام ہیں ، وہ کرے۔نیکیاں کرے، اعمال صالحہ بجالائے ، خدا کے فضلوں کا وراث بنے۔خدا کے فضلوں کے دروازے تو کوئی بند نہیں کر سکتا۔لیکن وقف کے لحاظ سے نا اہل لڑکوں کو اہل لڑکوں کی صف میں نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔وقف زندگی کی شرائط میں نرمی کی ایک تجویز پر واقفین زندگی نے اپنے نہایت اخلاص کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو محض اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر پیش کیا ہے۔ہمیں نہ کسی بدلے 863