تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 70
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 19 اگست 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم دوست جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سی اور غریب جماعت کو ساری دنیا کے مقابلہ پر لا کھڑا کیا ہے۔اور فرمایا کہ تمام ادیان باطلہ کا مقابلہ کرو اور انہیں شکست دو اور اسلام کی خوبیوں کو ظاہر کر کے اسے ان پر غالب کرو۔اس جماعت کے مقابلہ میں ایک طرف ان طاغوتی طاقتوں کو بڑی قوت اور وجاہت اور اقتدار اور مال دیا کہ اربوں، ارب روپیہ وہ اسلام کے خلاف خرچ کر رہے ہیں۔اور دوسری طرف اپنی اس جماعت کو بڑے ہی وعدے دیئے اور فرمایا کہ تم ان اقوام اور ان مذاہب کی طاقت کو دیکھ کر گھبرانا نہیں اور ان کے اموال پر نظر کر کے تمہیں پریشانی لاحق نہ ہو۔کیونکہ میرا تم سے یہ وعدہ ہے کہ اگر تم میری بھیجی ہوئی تعلیم پر عمل کرو گے اور میرے بتائے ہوئے طریق پر چلو گے تو تھوڑے ہونے کے باوجود اور کمزور ہونے کے باوجود اور غریب ہونے کے باوجود آخری فتح اور کامیابی تمہارے ہی نصیب ہوگی۔اس چیز کو دیکھتے ہوئے اور اس چیز کو سمجھتے ہوئے ، ہم پر بڑی ہی قربانیوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جن میں سے ایک مالی قربانی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہم سے یہ مطالبہ تو نہیں کیا کہ ہم اپنی طاقت اور استعداد سے بڑھ کر اس کی راہ میں قربانی دیں۔کیونکہ ایسا مطالبہ غیر معقول ہوتا۔اور اللہ تعالیٰ تو عقل اور حکمت اور علم اور نور کا سر چشمہ ہے۔وہ تو نور ہی نور ہے۔اس کی طرف سے اس قسم کا کوئی مطالبہ ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں یہ ضرور بتاتا ہے کہ میں نے قوت استعداد اور اموال کے بڑھانے کے کچھ طریق بھی رکھے ہیں۔تم اپنی طاقت سے بڑھ کر قربانی نہیں دے سکتے لیکن تم قربانی دینے کی طاقت کو ہر وقت بڑھا سکتے ہو۔پس قربانی دینے کی طاقتوں کو تم بڑھاؤ۔تین موٹی باتیں میں اس وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔اول :۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَانْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى ایک تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مالی اور اقتصادی لحاظ سے تم جس مقام پر بھی ہو، وہ تمہارا آخری مقام ہیں۔مزید ترقیات کے دروازے تمہارے سامنے ہیں، جنہیں تم اپنی سعی سے، اپنی کوشش سے، اپنی جدو جہد سے اپنی محنت سے کھول سکتے ہو۔یعنی اگر تم اپنے پیشہ میں مزید مہارت حاصل کر لو، جتنی محنت اور توجہ سے تم اس وقت کام کر رہے ہو ، اس سے زیادہ محنت اور توجہ سے کام کرو۔اور جو ذ رائع تمہیں میسر آئے ہوئے ہیں، ان کو تم پہلے سے زیادہ بہتر طریق پر استعمال کرو۔یعنی تدبیر کو اپنے کمال تک پہنچاؤ۔اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعائیں بھی کرتے رہو کہ وہ تمہارے اموال میں برکت ڈالے اور تمہاری کوششوں کو 70