تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 753
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم 2 خلاصه ارشادات فرموده دوران دوره اسلام آباد۔۔۔اصل میں یہ انقلاب اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کی بدولت رونما ہوا ہے۔ورنہ ہماری کوششیں بڑی حقیر ، ہمارا سرمایہ بڑا کم اور ہماری جانی قربانی چند سونفوس سے زیادہ نہیں۔اللہ تعالیٰ کے ان وو بے انتہا فضلوں کے مقابلے میں دراصل ہماری اس Contribution کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔۔اس وقت عیسائیوں کے ساتھ زبردست مقابلہ ہورہا ہے۔دنیا کی ساری دولتیں ان کے پاس جمع ہیں۔مگر وہ اپنے ہر قسم کے ساز و سامان اور جدوجہد کے باوجود اسلام کی روز افزوں ترقی پر تلملا رہے ہیں۔وہ ہمارے ہیلتھ سنٹر یا سکول کی افتتاحی تقریب میں جاتے تو حالات کا جائزہ لینے کے لئے ہیں مگر ہماری کوششوں کی افریقنوں میں پذیرائی پر کف افسوس مل کر رہ جاتے ہیں۔حالانکہ ہم چند آدمی ، تھوڑے سے پیسے، جو ہمیں بیرونی ملکوں سے تھوڑے تھوڑے بھجوانے پڑتے ہیں۔کیونکہ یہاں زرمبادلہ کی تنگی ہے اور ہاتھ بڑا روک کر خرچ کرنا پڑتا ہے۔مگر پھر بھی عیسائی جن کے پاس ہر قسم کے دنیوی وسائل موجود ہیں اور جنہیں ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں، وہ گھبرا اٹھے ہیں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ پیسے سے نتیجہ نہیں نکلتا، نتیجہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ جوشانی مطلق ہے ، وہ اپنے فضل سے ہمارے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں شفار کچھ دیتا ہے۔لوگ عیسائی ڈاکٹروں کو چھوڑ کر ہمارے ڈاکٹروں کے پاس آجاتے ہیں۔اس سے ان کی شہرت دن بدن بڑھ رہی ہے۔کماسی، غانا کا ایک بہت بڑا شہر ہے۔ظاہر ہے، اس میں بہت بڑے بڑے سرکاری اور مشن ہسپتال ہوں گے۔مگر یہاں سے بعض دفعہ دس، دس مریض اپنا شہر چھوڑ کر تمیں میل پر ہمارے ڈاکٹر کے پاس ایک چھوٹے سے گاؤں میں علاج کروانے آجاتے ہیں“۔" نیچی مان (غانا) میں ہمارے ڈاکٹر کی کیتھولک ہسپتال والے بڑی مخالفت کر رہے تھے۔خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دن جب کہ ان کا ڈاکٹر بیمار تھا، ان کے ہسپتال میں رات کے دس بجے ایک ایسی مریضہ آگئی، جس کا خاصا الجھا ہوا اکیس تھا اور فوری آپریشن کی ضرورت تھی۔اس پر وہ ہمارے ڈاکٹر سے تعاون کی درخواست کرنے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ ہمارے ڈاکٹر نے اسی وقت رات کو اس کا آپریشن کیا ، جو خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب رہا۔اور 4-3 دن کے بعد مریضہ بالکل ٹھیک ہوگئی۔اللہ تعالیٰ کے ان فصلوں پر ہمیں سجدات شکر بجالانے چاہئیں اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرتے رہنا چاہئے۔تا کہ ہم اس کے فضل اور اس کی رحمتوں اور اس کے پیار اور اس کی محبت کے زیادہ سے زیادہ وارث بنیں۔مطبوعه روزنامه الفضل 13 اگست 1971 ء ) 753