تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 740
ارشادات فرمودہ 28 مارچ 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بن فودی مجدد ہوئے۔اور انہوں نے بدعات کے خلاف عظیم جہاد کیا۔اور اس جہاد میں چونکہ ان کے خلاف تلوار اٹھائی گئی تھی، اس لئے انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے تلوار نکالی اور اس میں کامیاب ہوئے۔اسی صدی کے ایک اور مجددیہاں ہمارے علاقے میں بھی ہوئے ، جنہوں نے تلوار کا جہاد کیا۔جس میں حضرت عثمان بن فودی کی طرح تو کامیاب نہیں ہوئے۔کامیاب تو یقیناً ہوئے لیکن کامیابی کی شکل مختلف تھی۔چنانچہ وہ اور ان کے ایک بزرگ ساتھی اور ان کے ساتھ اور بھی بہت سارے مسلمان بالا کوٹ کے مقام پر شہید ہو گئے۔غرض نائیجیریا کے مسلم نارتھ میں اسلام کی ظاہری طور پر اب بھی بڑی عزت کی جاتی ہے۔اور یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ وہ مذہبی معاملات میں دوسری انتہا کو نکل گئے ہیں۔مثلاً ابادان کے علاقے میں مسلمان قبائل کی عورتیں غیر مہذب علاقوں کی طرح نیم برہنہ پھرتی ہیں۔لیکن شمال میں جہاں حضرت عثمان فودی کا اثر تھا، وہاں دن کے وقت برقعے میں بھی عورتوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔اگر کسی عورت کو کہیں باہر جانا ہو تو وہ برقع پہن کر اور خوب اچھی طرح چادر میں اپنے آپ کو لپیٹ کر اور اوپر رات کے اندھیرے کی چادر اوڑھ کر باہر نکلتی ہے۔غرض انتہا پسندی میں دوسری طرف نکل گئے۔یہ وہ علاقہ ہے، جو احمد بیت کو قبول نہیں کر رہا تھا۔چند سال پہلے تک کافی مخالفت تھی۔کوئی اکا دکا آدمی جو باہر دوسرے علاقے میں گیا ہوتا، وہ احمدی ہو جاتا تھا۔لیکن یہ احمدیت کی طرف توجہ نہیں کر رہے تھے۔اب اس علاقے میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہوئی ہے۔چنانچہ پہلے اس علاقے میں کانو کے مقام پر ہمارا ایک طبی مشن قائم ہوا۔پھر ان کے کہنے پر اور ان کی مدد سے کانو ہی میں ہائرسیکنڈری سکول کی اجازت ملی تھی۔چند دن ہوئے ، یہاں سے ہمارے ایک نوجوان واقف زندگی گئے ہیں۔انہوں نے اطلاع دی ہے کہ اپریل کے شروع میں یہ سکول اپنا کام شروع کر دے گا۔غرض پہلے یہاں ہمارا ایک میڈیکل مشن تھا، اب وہاں سکول بھی قائم ہو گیا ہے۔جلسہ سالانہ پر وہاں سے دوست آئے تھے۔ملاقات کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ تمہارے ملک میں یونیورسٹیاں کتنی ہیں؟ مجھے یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ اس ملک میں پانچ یو نیورسٹیاں ہیں۔جن میں سے صرف ایک اس علاقے میں ہے۔حالانکہ اس علاقے کی آبادی سارے ملک کی نصف سے بھی زیادہ ہے۔باقی چار یونیورسٹیاں ان کی سرحدوں پر واقع ہیں۔شاید یہ بھی ان سے کچھ فائدہ اٹھاتے ہوں گے۔لیکن دو یونیورسٹیاں تو ان سے اتنی دور ہیں کہ ان سے ان کے فائدہ اٹھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پس یہ عجیب بات ہے کہ نصف آبادی کے لئے ایک یو نیورسٹی اور باقی نصف آبادی کے لئے چار یو نیورسٹیاں ہیں۔کسی کو اس طرف توجہ 740