تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 719
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خلاصه تقریر فرموده 12 دسمبر 1970ء پاکستان کی احمدی خواتین اپنے معیار قربانی کو بلند سے بلند کریں تقریر فرمودہ 12 دسمبر 1970ء حضرت خلیفة المسیح الثالث کی خدمت میں احمدی خواتین کے مختلف شعبوں کی طرف سے منعقدہ استقبالیہ تقریب میں حضور نے جو تقریر فرمائی ، اس کے خلاصہ سے کچھ اقتباسات درج ذیل ہیں:۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور بے پایاں احسان کے نتیجہ میں اسلام کی نشاۃ اولیٰ کے دور کی طرز 55 اب پھر وہی زمانہ عود کر آیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دور میں احمدی مستورات کو مردوں کے پہلو بہ پہلو ایک جیسی قربانیاں کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔اور فی زمانہ اپنی ان عدیم النظیر قربانیوں کی جہ سے غلبہ اسلام کی موجودہ جد و جہد میں بحمد اللہ تعالیٰ وہ برابر کی شریک ہیں۔وجہ۔حضور نے فرمایا:۔وو دنیا کی تاریخ کھنگال ڈالو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ابدی حیات کے طفیل دو ہی دور ایسے ملتے ہیں۔ایک اسلام کی نشاۃ اولی کا دور اور ایک اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا موجودہ دور، جس میں دین کی سر بلندی کی خاطر قربانیوں کے میدان میں نہ عورتیں مردوں سے پیچھے رہیں اور نہ مرد عورتوں سے پیچھے رہے۔دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی رضا کو پانے کے لئے ایک جیسی قربانیاں کرنے والے تھے اور ہیں۔اگر انسان غور کرے تو یہ بڑا ہی حسین نظارہ ہے، جو اسلام کی نشاۃ اولیٰ کے دور میں دیکھنے میں آیا یا جواب اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے موجودہ دور میں دنیا دیکھ رہی ہے۔یہ ایک ایسی خصوصیت ہے، جماعت کی جس کی نظیر آج کی دنیا میں نہیں ملتی۔اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے، امت مسلمہ کی ، (جیسا کہ پہلی تین صدیوں میں ہوا۔) جس کا آدم سے لے کر موجودہ زمانہ تک دنیا کی کوئی قوم مقابلہ نہیں کر سکتی۔اور وہ خصوصیت جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ، یہ ہے کہ دور اول میں مسلمان عورتیں قربانیوں کے میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں رہیں۔اور نہ اب نشاۃ ثانیہ کے موجودہ دور میں احمدی خواتین قربانیوں کے میدان میں مردوں سے پیچھے ہیں۔انہوں نے اس وقت بھی یکساں قربانیاں کیں اور وہ اب بھی یکساں قربانیاں کر رہی ہیں۔اسی لئے اس وقت بھی مسلمان عورتیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی یکساں وارث بنیں اور آج بھی انہیں کی بہنیں یعنی احمدی خواتین اللہ کے فضلوں سے یکساں طور پر حصہ پا رہی ہیں“۔719