تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 711
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 23 اکتوبر 1970ء مند کر دیں گے کہ پہلوں کی جو تربیت ہے، اس میں رخنہ نہ پڑ جائے۔ان کو آتے ہی سنبھالنا چاہیے اور پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ صحیح راستہ پر ان کو لگا دینا چاہیے۔یہ ذمہ واری انصار اللہ پر ہے۔باقی آپ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مال خرچ کرتے ہیں، وہ اس لئے خرچ نہیں کرتے کہ ہم نے ایک منصو بہ بنایا اور اس منصوبہ کو ہم کامیاب کرنا چاہتے ہیں۔بلکہ میں بھی اور آپ بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی اپنی استعداد اور اخلاص کے مطابق جو مالی قربانی پیش کرتے ہیں ، وہ اس لئے پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک منصوبہ بنایا اور ہمیں یہ فرمایا کہ اس کو کامیاب کرنے کے لئے قربانیاں دو۔غرض یہ منصوبہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ہے اور ہم سے اس کا یہ وعدہ ہے کہ تم اپنی استعداد کے مطابق قربانیاں دیتے چلے جاؤ۔منصوبہ میں نے کامیاب کرنا ہے، تمہارے سر پر سہرا باندھ دوں گا۔خدا تعالیٰ کو تو سہرے کی ضرورت نہیں۔سہرے کی احتیاج تو اس کے بندے کو ہوا کرتی ہے۔اس سہرے کی ، جو اللہ تعالیٰ باندھے۔پس ہمارا رب بڑا پیار کرنے والا ہے۔غلبہ اسلام کا خود ایک منصو بہ بنایا اور فرمایا کہ دنیا جو مرضی کرے، ساری اقوام عالم حلقہ بگوش اسلام ہو کر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار اور مست ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قدموں میں جمع ہو جائیں گی۔اور ہمارا رب فرماتا ہے میں یہ کر کے چھوڑوں گا۔اور ہمیں فرمایا کہ تمہارے سر پر میں سہرا باندھنا چاہتا ہوں۔اس واسطے میرے کہنے کے مطابق تم قربانیاں دو۔غلبہ اسلام کا جو نتیجہ نکلے گا، وہ تمہاری قربانیوں کے مقابلے میں بہت عظیم ہو گا۔اس کی آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوگی۔لیکن چونکہ میں تم سے پیار کا ایک مظاہرہ کرنا چاہتا ہوں، اپنی محبت کا تمہیں ایک جلوہ دکھانا چاہتا ہوں، اس لئے کامیابی تو میری قدرت کاملہ سے ہوگی لیکن میں اپنے ہاتھ سے تمہارے سروں پر سہرا باندھ دوں گا۔پس دوست دعا کریں، اعمال صالحہ سے عاجزانہ مجاہدہ کریں کہ واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہمارے دلوں کو اور ہماری روح کو اس طرح پاک اور مطہر کر دے کہ وہ اپنے پیارے ہاتھوں سے غلبہ اسلام کا یہ سہرا ہمارے ہی سروں پر باندھے“۔(آمین) مطبوعه روزنامه الفضل 20 دسمبر 1970ء ) 711