تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 710 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 710

خطبہ جمعہ فرموده 23 اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم دفتر سوم کو جس میں روز بروز ترقی ہوتی چلی جائے گی کیونکہ نو جوانوں کو اس طرف بڑی توجہ پیدا ہو رہی ہے، وہ آئیں گے تو دفتر سوم میں داخل ہو جائیں گے۔دفتر سوم میں جب داخل ہوں گے، غیر تربیت یافتہ ہوں گے۔آج احمدی ہوئے ، کل کو اس نے تحریک جدید کا چندہ لکھوا دیا۔اس پر ذمہ داری پڑ گئی ، جو ہر احمدی نوجوان پر پڑتی ہے۔اس کو اپنا نفس مارنا پڑے گا، اس کو گالیاں سن کر بجائے چھیڑ لگانے کے دعا دینی پڑے گی۔اسے بڑے زبر دست ضبط اور نفس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔دوسروں کو تو بڑا آرام ہے، غصہ آیا ، چیڑ لگا دی۔ایک چیڑ کھالی، ایک چیڑ لگا دی۔پر ایک احمدی کی نہ یہ تربیت ہے اور نہ اسے یہ زیب دیتا ہے۔اسے تو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ چیڑ کھاؤ اور دعا دو اور دل جیتو۔ہم نے لوگوں کے سر پھاڑ کر ترقی نہیں کرنی۔بلکہ غلبہ اسلام کی یہ مہم لوگوں کے دل جیت کر سر ہوگی۔جس طرح یورپ سے میں نے جا کر کہا تھا کہ تمہارے دل جیتیں گے اور اسلام کو پھیلائیں گے، اسی طرح میں یہاں بھی کہتا ہوں۔کسی سے ہماری دشمنی اور لڑائی نہیں۔ہم دل جیتیں گے اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو پھیلائیں گے۔اس لئے جب تم چپیڑ کھاؤ گے تو چیز کا جواب چھیڑ سے نہیں دینا۔اس لئے بڑی زبر دست تربیت کی ضرورت ہے۔نفس کی مثال گھوڑے کی ہے۔نفس یا تو منہ زور گھوڑا بن سکتا ہے یا مطیع گھوڑا بن سکتا ہے۔گھوڑے میں بڑی طاقت ہے۔اگر چاہے اور مطیع نہ ہو تو دس آدمیوں کو کھینچ کر لے جائے۔لگام آپ جتنی مرضی کھینچتے رہیں ، وہ کوئی پرواہ نہیں کرتا۔اسی طرح نفس امارہ اور اس کی بدیاں بڑی زور دار ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت کی اور عاجزانہ دعاؤں کی لگام اس کے منہ میں پڑنی چاہیے اور اس کو ایک ہلکا سا اشارہ کافی ہونا چاہیے۔گھوڑے کو جو سکھایا جاتا ہے،صرف اشارہ سکھایا جاتا ہے۔اسے یہ نہیں بتایا جا تا کہ میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں۔یہ بتایا جاتا ہے کہ میں تم سے زیادہ ہوشیار ہوں۔تمہیں میرے اشارے پر چلنا پڑے گا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ گھوڑے کو ہم نے تمہارے لئے مسخر کیا ہے۔اور یہی گھوڑے کو سمجھایا جاتا ہے۔ویسے لگام کا اشارہ ہوتا ہے لیکن اگر اچھا گھوڑا ہو تو سوار اگر بغیر لگام کے اشارے کے ٹھہرانا چاہے تو وہ کھڑا ہو جاتا ہے۔پس نفس کو بھی اسی طرح مطیع ہونا چاہیے۔یہ نہیں کہ جو مرضی کرے۔آپ کا شعور یہ کہے کہ اللہ تعالی کہتا ہے کہ اچھے کھانے نہ کھاؤ۔اس وقت مجھے تمہارے پیسوں کی اس لئے ضرورت ہے، تم اپنے جسموں کو کھانے سے اس لئے محروم کرو کہ کسی اور روح کو تمہارے پیسے کی ضرورت ہے۔تو بہر حال یہ روح جسم پر مقدم ہے۔پس اپنے جسم کی آسائش اور اچھے کھانے کی لذت کی قربانی دو تا کہ کوئی اور روح جہنم سے بچائی جاسکے۔اور یہ تربیت نفس کو آپ نے دینی ہے۔وہ جو باہر سے آئیں گے، وہ تو اور بھی فکر 710