تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 706
خطبہ جمعہ فرمودہ 23 اکتوبر 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم تو ان کے مقابلے میں ہمارے طالب علموں نے بھی پتھراؤ کیا۔مجھے جب پتہ لگا تو میں بڑا پریشان ہوا کہ انہوں نے احمدیت کی تربیت کے خلاف ایسا کیسے کر دیا؟ دراصل ہمارے کالج کے ہوسٹل میں 60 فیصد طالب علم ایسے تھے، جو احمدی نہیں تھے۔جب میں نے تحقیق کی تو مجھے پتہ لگا کہ جن لڑکوں نے جوابا پتھراؤ کیا ہے، ان میں ایک بھی احمدی نہیں تھا۔لیکن چونکہ وہ ہمارے درمیان رہتے تھے، ہمارے طالب علموں کو دیکھتے تھے ، ہمارے ساتھ ان کا تعلق تھا، انہیں یہ پتہ تھا کہ یہ مظلوم جماعت ہے، اس لئے ان کو غصہ آگیا اور جوابی پتھراؤ کیا۔مگر اس میں احمدی طلبہ ملوث نہیں تھے۔انکوائیری کمیشن میں آئی جی انور علی صاحب نے اس بات کو پیش کرایا کہ دیکھیں جی، یہ دونوں طرف سے ہو جاتا ہے۔اس سے زیادہ طیش آ جاتا ہے۔تعلیم الاسلام کا لج پر جب حملہ ہوا تو اندر سے بھی پتھراؤ ہو گیا۔میرے ساتھی میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ آپ کو پتہ ہے کہ اس پتھراؤ میں احمدی طلبا شامل نہیں تھے ، اس لئے ہماری طرف سے یہ موقف لینا چاہیے کہ یہ غیر احمدی طلباء کا کام ہے۔میں نے کہا، یہ نہیں ہو سکتا۔جنہوں نے پیار کے ساتھ ہمارا ساتھ دیا ہے، ہم ان کے خلاف انکوائری کمیشن میں کچھ نہیں کہیں گے۔ہمیں وہ بدنام کرتے ہیں تو کرتے رہیں۔لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ طالب علم ، جو احمدی نہیں تھے، ان کو اپنے کالج کے لیے جوش اور غیرت آئی اور انہوں نے ہماری خاطر ایک قدم اٹھایا۔بے شک وہ ہمارے نزدیک غلط قدم تھا۔لیکن ان کے نزدیک تو درست تھا۔اگر ان کا قدم غلط ہے تو باہر سے بھی پتھراؤ اندر نہیں آنا چاہیے تھا اور اندر سے بھی باہر پھر نہیں جانا چاہیے تھا۔لیکن جنہوں نے ہماری خاطر یہ قدم اٹھایا ہے، ہم ان کے خلاف یہ قدم نہیں اٹھائیں گے۔وہ احمدی نہیں تھے، غیر احمدی تھے۔وہ تو ہمارے ہیں، چاہے احمدی ہیں یا نہیں۔ہماری خاطر انہیں غیرت آئی، ہماری خاطر انہیں جوش آیا۔پس ہمیں فکر یہ رہتا ہے کہ کام کوئی کرے گا اور نام ہمارا بد نام ہو گا۔ہمارا موقف پیار کا موقف ہے۔ہم ان کو بدنام نہیں کریں گے ، جو ہماری خاطر غلطی کر رہے ہوں گے ، اپنے سر لے لیں گے۔غرض یہ نوجوان طبقہ اس وقت احمدیت کی طرف زیادہ توجہ کر رہا ہے۔اور ہم پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔پڑھے لکھے طالب علم ہیں لیکن اکثر مظلوم ہیں۔ان سے بھی کوئی پیار نہیں کرتا۔ایک دفعہ بہت سے غیر احمدی طالب علم مجھ سے ملنے آئے۔ان میں کئی ایک لیڈر ٹائپ کے تھے۔جب میں اٹھا تو ایک لیڈر طالب علم کے منہ سے ایک ایسا فقرہ نکلا، جسے سن کر مجھے خوشی بھی ہوئی لیکن مجھے دکھ بھی بہت ہوا۔جب ہم ڈیڑھ دو گھنٹے کی ملاقات کے بعد فارغ ہوئے ، اس کے بعد مصافحہ کرنا تھا، وہ میرے دائیں طرف بیٹھا ہوا تھا۔پہلے اس سے میں نے مصافحہ کرنا تھا، وہ آہستہ سے مجھے کہنے لگا کہ آج پہلی دفعہ کسی شریف آدمی نے ہم سے شرافت سے باتیں کی ہیں۔مجھے یہ سن کر خوشی تو ہوئی کہ اس طرح جماعت کا اس 706