تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 705
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 23 اکتوبر 1970ء انصار اللہ میں بعض نئے احمدیت میں داخل ہونے والے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔انہیں ہم خدام الاحمدیہ یا اطفال میں تو نہیں بھیجتے۔مثلاً جو 45 یا 50 سال کی عمر میں آج احمدی ہوا ہے اور ہر مہینے بیسیوں اور سینکڑوں لوگ ایسے ہوتے ہیں۔ایسے لوگ بہر حال اپنی عمر کے لحاظ سے انصار اللہ میں جائیں گے۔اور ان کی تربیت کمزور ہوگی۔لیکن زیادہ رو اس وقت نو جوانوں میں ہے۔اور میں بڑا خوش ہوں، ہماری اگلی نسل میں بڑوں کی نسبت دین کی طرف بھی اور اسلام کے حقیقی نور کی طرف بھی اور احمدیت کی طرف بھی زیادہ توجہ ہے۔اور ( بعض جگہ تو اس وجہ سے فکر پیدا ہوتی ہے، دو تین جگہ سے یہ رپورٹ آئی ہے کہ انہوں نے ایک فتویٰ دے دیا تھا کہ احمدی کا فر ہیں، اس کے مقابلے میں اس وقت تک دو چیزیں آگئی ہیں۔) میں ضمناً یہ بھی بتا دوں کہ دنیا جو مرضی کہتی رہے، اگر ہمارا رب ہمیں کافر نہیں کہتا تو ہمیں کوئی فکر نہیں لیکن چونکہ بہت سے احمدیت سے باہر ہیں، وہ غلط راستے پر چل سکتے ہیں، غلط نتائج لے سکتے ہیں۔اس لئے ہمیں بعض دفعہ کفر کے فتوؤں کا جواب دینا پڑتا ہے۔ہائیکورٹ نے بھی یہ فیصلہ کیا اور قوم کے محبوب سیاسی رہنما قائد اعظم نے بھی یہ کہا، وغیرہ وغیرہ۔یہ جو نئے نئے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں یا جو احمدی نہیں ہیں، ان کے لئے ہمیں یہ چیزیں چھپوانی پڑی ہیں۔ورنہ ہمیں کیا ضرورت ہے؟ جس کے کان میں اللہ تعالیٰ یہ کہ رہا ہو کہ میں تجھے مسلمان سمجھتا ہوں، اسے کسی اور کے فتوے کی ضرورت تو باقی نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان کافی ہے۔اور الحمد للہ وہ ہمیں یہی کہہ رہا ہے، میں تمہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔لیکن جب ہم دوسروں کے لئے چھپواتے ہیں۔جماعت احمد یہ لا ہور کے ایک دوست نے کچھ پوسٹر بھی شائع کئے تو دو تین جگہ سے یہ رپورٹ آئی کہ جب یہ پوسٹر لگائے جارہے تھے تو چونکہ ہمارے خلاف تعصب بھی ہے ( اور یہ تعصب جہالت کے نتیجہ میں ہے یا عدم علم کے نتیجہ میں ہے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں صحیح واقفیت بہم پہنچا ئیں۔اس لئے ایسے موقع پر ہمیں ان کے اوپر رحم ہی آتا ہے۔اپنے اوپر غصہ آتا ہے کہ ہم نے صداقت صحیح رنگ میں ان تک کیوں نہیں پہنچائی ؟ بہر حال تعصب ہے۔چنانچہ کئی لوگ کھڑے ہو گئے کہ ہم یہ پوسٹر نہیں لگانے دیں گے۔اس پر کئی غیر احمدی دوست ان کے مقابلہ پر کھڑے ہو گئے کہ ہم دیکھیں گے تم کس طرح پھاڑتے ہو؟ پس ایسی لڑائی میں ہم شامل تو نہیں ہوں گے لیکن ملوث سمجھے جائیں گے۔حالانکہ وہاں کوئی احمدی نہیں لڑے گا۔کیونکہ لڑنے کا تو نہ ہمیں حکم ہے اور نہ ہمیں ایسی تربیت دی گئی ہے۔لیکن جن کی توجہ غلبہ اسلام کی اس مہم کی طرف ہوتی ہے، ان کو جوش آجاتا ہے اور ہمیں وہاں خاموش ہی رہنا پڑتا ہے۔53ء میں جب کالج پر کئی طرف سے انہوں نے یورش کی تو ایک ایسا گروہ آیا، جس نے پتھراؤ کیا۔تعلیم الاسلام کالج اس وقت لاہور میں ڈی اے وی کالج کی بلڈنگ میں تھا۔چنانچہ جب کالج پر پتھراؤ کیا گیا 705