تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 677
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 04 ستمبر 1970ء دوسرے کے خلاف فتاویٰ کفر کو اکٹھا کر وایا ہے اور میں نے ان کی ایک کاپی بنوائی ہے۔ہر فرقے نے دوسرے کو کا فر ہی نہیں کہا بلکہ اس کے خلاف اتنی گندی زبان استعمال کی ہے کہ اسے پڑھ کر انسان بڑا حیران اور پریشان ہو جاتا ہے۔میں نے ان کے اس قسم کے فتووں کو ایک جگہ اکٹھا کر وا دیا ہے۔تا کہ اگر کوئی آئے اور کہے کہ جی احمد یوں پر کفر کا فتویٰ لگا ہوا ہے تو اس کو کہا جائے کہ پڑھ لو، پھر ہمارے ساتھ بات کرنا۔لیکن یہ کفر بازی بے ہودگی ہے، اسے ہم درست نہیں سمجھتے۔ہم تو اس ایمان پر قائم ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کسی کلمہ گوگو کا فرنہیں کہا جاسکتا۔لیکن صرف اتنا ہی نہیں فرمایا بلکہ کچھ اور بھی فرمایا ہے۔یہ ہمارے لاہور والے بھائی اگلا حصہ بھول جاتے ہیں۔آپ نے یہ تو فرمایا ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ کسی کلمہ گوکو کافر نہیں کہا جاسکتا۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے لیکن اس کے بعد جو فرمایا ہے، وہ یہ ہے کہ جو سی کلمہ گو کو کافر کہے گا، وہ کفر الٹا اس پر پڑے گا اور وہ کافر بن جائے گا۔ہم نے کسی کو کا فرکیا کہنا اور کیوں کہنا ؟ اول تو یہی سوچنا چاہئے ، میرا جیسا عاجز انسان تو یہ سوچ ہی نہیں سکتا کہ میں کسی کو کافر کہوں اور وہ کافر بن جائے گا۔انسان کا کام کا فر بنانا نہیں ، نہ دین دار بنانا ہے۔قرآن کریم نے اس کی وضاحت کی ہے۔جسے اللہ تعالیٰ ہلاک کرنا چاہے تم اسے جا کر کیسے ہدایت دے دو گے؟ قرآن کریم کہتا ہے، ہدایت بھی اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے اور کفر کا فتویٰ بھی اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے۔پس اس دوسرے حصے کے متعلق خاموش ہو جانا، یہ تو درست نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قریباً تین سال تک ( یہ میرا اندازہ ہے، پوری طرح اس زمانے کا جو امتداد ہے، اسے چیک نہیں کیا گیا۔لیکن میرا اندازہ یہ ہے کہ آپ نے 3 سال تک ) ان دوسو چوٹی کے مولویوں کو ، جنہوں نے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا، انہیں سمجھاتے رہے کہ تم اس کھیل میں نہ پڑو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے۔اگر تم اصرار کرو گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے مطابق اپنے آپ کو بھی کافر بنا لو گے۔یہاں تک کہ جب انہوں نے اصرار سے مباہلے کا چیلنج دیا تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا چیلنج قبول کرنے کے لئے اس لئے تیار نہیں کہ میں کسی کلمہ گوگو کا فرنہیں کہتا۔اور جو کلمہ پڑھنے والا مسلمان ہے، اس کے مباہلہ کو جائز نہیں سمجھتا۔لیکن آگے سے آپ کو جواب یہ ملا کہ آپ ہمیں کافر نہ سمجھتے ہوں ، ہم تو آپ کو کا فر سمجھتے ہیں، ہم سے مباہلہ کریں۔غرض بڑے لمبے عرصہ تک آپ انہیں سمجھاتے رہے۔یہاں ہمارے ایک ڈین (Deen) آئے تھے، انہیں یہ مسئلہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم تو عاجز بندے ہیں، ہماری کیا مجال کہ کسی کلمہ گوگو کا فرکہیں ؟ لیکن ہماری یہ بھی مجال نہیں کہ جسے آنحضرت 677