تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 658 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 658

اقتباس از خطاب فرمودہ 30 اگست 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم تھے۔گو اس قسم کا خیال رکھنے والے آٹھ ، دس تھے۔لیکن وہ پڑھے لکھے اور عہدیدار تھے۔شیطان نے ان کے دلوں میں یہ بات پیدا کر دی۔مجھے اس کا پتہ لگا تو میں کسی کوختی سے اور کسی کو نرمی سے سمجھا تارہا۔پہلے تو میں نے سمجھا کہ عبدالوہاب ، جس کا وہ نام لے رہے تھے، اس کو کہیں خراب نہ کریں۔وہ بڑا مخلص اور کام کرنے والا افریقن مبلغ ہے۔اس سے میں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ ہم تو بین الاقوامی سطح پر سوچتے ہیں کیونکہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے۔قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ سارے انسان بحیثیت انسان برابر ہیں۔میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ تمہیں غانا کا مشنری انچارج نہیں بلکہ سکاٹ لینڈ یا کسی اور علاقہ کا مشنری انچارج بنادوں۔اور تم سوچ رہے ہو کہ GHANIAN۔FOR GHANA تمہارا یہ انداز فکر ، احمدیت کا انداز فکر نہیں ہے۔خیر وہ تو بڑا مخلص ہے ، اس کے دماغ میں کیڑر انہیں تھا، میں تو اس کو اس خیال سے بچانا چاہتا تھا۔پھر میں نے دوسروں کو بھی سمجھایا۔ایک نوجوان اچھے بڑے عہدے پر کام کرتا ہے، ڈیڑھ، دو ہزار روپے تنخواہ لینے والا ہے۔جس وقت میں نے غانا سے روانہ ہونا تھا، اس کی کہیں باہر جانے کی ڈیوٹی لگ گئی تو وہ اس ہوٹل میں الوداع کہنے کے لیے آ گیا، جہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے۔اور کہنے لگا کہ افسوس ہے، میں ایئر پورٹ پر نہیں آسکتا۔اس لئے میں یہاں آ گیا ہوں۔ہمارے مبلغ انچارج نے مجھے بتایا کہ یہ بھی ان آٹھ ، دس میں شامل ہے۔چنانچہ میں نے اسے ایک طرف لے جا کر کہا کہ تم احمدیت کی سوچ کے خلاف یہ کیا سوچ رہے ہو؟ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ تمہارے آدمیوں کو باہر لے جا کر یورپ کے کسی ملک کا انچارج بنادوں اور تم یہ سوچ رہے ہو GHANIAN۔FOR GHANA میں نے جب ذراختی سے یہ کہا تو اس نے بچوں کی طرح ہچکیاں لے لے کر رونا شروع کر دیا اور اسے اپنے اوپر بالکل قابو نہ رہا۔اس کا رو رو کر برا حال ہو گیا۔پھر میں نے اسے گلے لگایا اور اس کی گردن پر پیار کیا۔مگر پھر بھی اس کا رونا بند نہ ہوا۔پھر میاں مبارک احمد صاحب سے بھی اس نے کہا کہ حضرت صاحب کے پاس مبلغ انچارج نے میری شکایت کر دی ہے۔غرض وہ بڑی سعید روحیں ہیں اور وہ لوگ اخلاص سے بھرے ہوئے ہیں۔لیکن ہمارا مساوات کا خالی دعوی کافی نہیں ہے۔اس طرح آج نہیں تو کل شیطان کسی اور کے دماغ میں یہ کیڑا پیدا کر دے گا۔اس واسطے میں نے غانا میں کماسی کے مقام پر ہمارے جو افریقن ہیڈ ماسٹر ہیں، ہمارا یہ سکول بہت اعلیٰ درجے کا ہے۔) اس کو میں نے کہا کہ میرا تو دل کرتا ہے کہ میں تمہیں پاکستان کے اپنے کسی ہائی سکول کا ہیڈ 658