تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 610 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 610

اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 31 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سے سات ہزار میل دور ہے تو اڑان کا وقت ہمارا چھ اور نو قریباً پندرہ ، سولہ گھنٹے تھا۔پندرہ ، سولہ گھنٹے میں جہاز سات ہزار میل دور کے ممالک میں پہنچا دیتا ہے۔کوئی وقت تھا کہ یہاں سے افریقہ جانے کا خیال بھی انسان نہیں کر سکتا تھا۔اگر کوئی بہادر اور جری اور علم کے حصول کا جنون رکھنے والا روانہ ہوتا تھا، ابن بطوطہ کی طرح تو سالہا سال کے سفروں کے بعد اس کے لئے ممکن ہوتا تھا کہ وہ اپنے گھر کو واپس لوٹ سکے۔تو وحدت اقوامی کے قیام کے لئے ضروری تھا کہ means of communication (میز آف کمیونی کیشن ) جسے کہتے ہیں، رسل ورسائل اور آپس کے تعلقات کو قائم کرنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے۔وہ اس حد تک ترقی یافتہ ہوجائیں کہ قوم قوم کے درمیان فاصلہ مکان کا فاصلہ اور زمان کا فاصلہ جو ہے، وہ بہت کم ہو جائے۔ایسا ہی کم ہو جائے ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ سے مکہ تک پہنچایا اس سے بھی کم عرصہ میں دنیا کے بہترین حصہ میں انسان پہنچ سکتا ہے۔تو ایک اس کے بغیر وحدت اقوامی کا قیام ممکن نہیں کہ تمام بنی نوع انسان ایک برادری بین جائیں۔اور ان کا باپ اس دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔بقیہ دو باتوں کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک تو ایسا زمانہ چاہئے۔ایک تو یہ ہو کہ رسل و رسائل means of communication (میز آف کمیونی کیشن) اتنے ہوں کہ تمام دنیا ایک ملک کی طرح بن جائے۔دوسرے یہ کہ وہ حالات ایسے ہوں اور طبائع میں جوش اس قدر ہو کہ تمام مذاہب اپنے اپنے مذہب کی صداقت کے فیصلہ کے لئے تیار ہوں۔حالات بھی ایسے ہوں کہ ان کا آپس میں مقابلہ ہو سکے۔مذاہب کی گشتی کا امکان پیدا ہو جائے۔جو اس زمانہ میں ہو گیا۔ایک تو یہ کہ مذہبی آزادی سوائے ایک تنگ ذہن کے ہر جگہ ہمیں نظر آتی ہے۔مذہب کی بناء پر آج تلوار نہیں نکالی جا رہی۔نہ کسی کو قتل و غارت کے میدان میں دھکیلا جارہا ہے۔الا ماشاء الله۔ساری دنیا جو ہے، وہ باتوں کو سنتی ہے۔ہمارے ملک میں تعصب ہے۔مگر ایک چھوٹے سے حصہ میں ہزار میں سے ایک شخص ہو گا، جو اس تعصب کی بیماری میں مبتلا ہوگا۔ہمارے پاکستان والے بھی تحمل سے بات سنتے ہیں۔اس زمانہ میں ہم ہی بعض دفعہ ستی دکھاتے ہیں، انہیں بات نہیں سناتے۔وہ سننے کے لئے تیار ہیں۔اور کسی پر زبردستی نہیں۔میرے سامنے جب بھی بعض دفعہ جوش میں آکر احمدی کہہ دیتے ہیں کہ انہوں نے بہت کچھ پڑھا ہے لیکن یہ صاحب جو ہیں ، وہ سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، احمدیت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔تو میں نے انہیں کبھی یہ نہیں کہا کہ تم فارم پر دستخط کرو اور تم بیعت کرلو۔میں نے انہیں نصیحت کی کہ دیکھو! یہ جو مرضی ہے، کہتے ر ہیں، جب تک انشراح صدر نہ ہو، تم احمدیت میں داخل نہ ہونا۔کیونکہ گنتی سے تو کوئی فائدہ نہیں۔نہ گنتی میں 610