تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 596 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 596

خطبہ جمعہ فرمود 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یہ ہے کہ وزیر سکول میں آ رہا ہے اور سفارش لے کر آ رہا ہے کہ لڑکے کو ضرور داخل کرنا ہے۔اور ایک دو نہیں بلکہ ایک، ایک دن میں چھ، چھ وزیر آ رہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کوکوئی جھجک نہیں۔بڑے سادہ معاشرہ میں زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں مبارک کرے۔اور بھی زیادہ سادگی پیدا کرے۔وہاں کبھی بھی بڑے اور چھوٹے کا فرق پیدا نہ ہو۔غرض ان ملکوں میں حکومت کو سکولوں کی طرف بڑی توجہ رہتی ہے۔میں نے گیمبیا میں ان کے معاشرہ کے لحاظ سے اپنے ایک دوست سے کہا کہ یہاں کے وزیر تعلیم ، جو وزیر صحت بھی ہیں۔انہیں میرے پاس لے کر آؤ، میں نے ان سے باتیں کرنی ہیں۔خیر وہ آگئے ، میں ان سے کہوں کہ میں نے پہلے یہاں میڈیکل سنٹر ز کھولنے ہیں۔کیونکہ میرے ذہن میں تو یہ تھا کہ یہاں مجھے آمد کا ذریعہ بنا دینا چاہئے۔لیکن وہ یہ کہیں کہ ہمارا ملک تعلیم میں بہت پیچھے ہے، آپ یہاں پہلے ہائی سکول کھولیں۔اور ہائی سکول کھولنے پر پہلے سال چار، پانچ ہزار پاؤنڈ اپنے پاس سے خرچ کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد حکومت مدد دینا شروع کر دیتی ہے۔میں نے انہیں کہا، دیکھیں! آپ میرے ساتھ تعاون کریں اور جیسا کہ میں نے پروگرام بنایا ہے، چارنے میڈیکل سنٹرز یہاں کھلنے دیں اور اس سلسلہ میں ہمارے ساتھ پورا تعاون کریں۔اور میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے ہمیں یہ سہولتیں دے دیں یعنی زمین اور ڈاکٹروں کے لئے انٹری پر مٹ تو ہم انشاء اللہ ہر سال ایک نیا ہائی سکول کھولتے چلے جائیں گے۔گیمبیا تعلیم میں اتنا پیچھے ہے کہ جب میں وہاں گیا تو مجھے خیال آیا کہ میں ان سے کہوں کہ وہاں یو نیورسٹی نہیں تم یونیورسٹی بناؤ۔نصف نصف بار ہم تقسیم کر لیں گے۔وزیر تعلیم ہنس پڑے، کہنے لگے کہ ہمارے ملک کی ٹوٹل پاپولیشن میں سے دسویں جماعت کے طلباء کی تعداد صرف ایک ہزار ہے۔سارے ملک میں سے ایک ہزار لڑکا دسویں جماعت کے امتحان میں بیٹھتا ہے۔ہم یونیورسٹی کس برتے پر بنا سکتے ہیں۔اس لئے پہلے آپ ہائی سکول کھول دیں۔میں نے ان سے کہا کہ وہ تو انشاء اللہ کھل جائیں گے۔خدا کرے کہ 10-8 سال کے بعد وہ ملک اس قابل ہو جائے کہ وہاں ایک یونیورسٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہو۔اور ہمیں 50 فیصد کا بوجھ حکومت کے کندھوں پر ڈالنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔یہ بوجھ بھی ہم خود ہی برداشت کر لیں اور وہاں ایک یو نیورسٹی کھول دیں۔اللہ تعالیٰ سے کوئی بعید نہیں۔آپ الحمد للہ بہت پڑھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک حسین اور عظیم رنگ میں ایک چھوٹے سے منصوبہ کے لئے قربانی کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔اور دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان قربانیوں کو قبول 596