تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page vi of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page vi

وو مزید فرمایا:۔پھر تحر یک جدید ہے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے دنیا بھر میں اشاعت اسلام کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اور جماعت کی جدو جہد کو تیز اور اس کے جہاد بالقرآن میں ایک شدت پیدا کرنے کے لئے تحریک جدید کو قائم کیا۔“۔خطاب فرموده 29 اکتوبر 1969 ء ) حضرت اقدس مسیح موعود کی بعثت کے ذریعہ عیسائیت کے مقابلہ اور اشاعت وغلبہ اسلام کی جو مہم شروع ہوئی ، اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اس روحانی مہم کو تمام اکناف عالم میں چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے القاء سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نومبر 1934ء سے تحریک جدید کا اجرا کیا تھا۔دوست جانتے ہیں کہ اس تحریک کے ذریعہ دنیا کے بہت سے ممالک میں عیسائیت کا زبر دست خوش کن اور کامیاب مقابلہ کیا جارہا ہے۔۔۔۔غلبہ اسلام کی جو مہم تحریک جدید کے ذریعہ جاری کی گئی ہے، وہ وقتی نہیں بلکہ قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔چندہ تحریک جدید کے متعلق فرمایا :۔(خطبہ جمعہ فرمود 22 اپریل 1966 ء )۔۔۔۔چونکہ اسلام کا یہ بنیادی حکم ہے کہ فرائض سے کچھ زیادہ خرچ کرو تاتم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکو، اس لئے ہماری جماعت میں حضرت مصلح موعودؓ نے علاوہ فرض چندوں کے بہت سے نفلی چندوں کی بھی تحریک کی ہوئی ہے۔ان میں سے ایک چندہ یعنی چندہ تحریک جدید گونفلی ہے لیکن ضرورت کے مطابق شاید وہ فرض کے قریب قریب پہنچا ہوا ہے۔اس کی مثال سنتوں کی سی ہے۔جو ہیں تو نوافل لیکن وہ نفل کی نسبت فرض کے زیادہ قریب ہمیں نظر آتی ہیں۔کیونکہ انہیں ادا کرنے کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید فرمائی ہوئی ہے۔مطالبات تحریک جدید کے متعلق فرماتے ہیں:۔" (خطاب فرمود 22 اکتوبر 1966 ء ) تحریک جدید کے بہت سے مطالبات ہیں، جن کے متعلق حضرت مصلح موعود