تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page v
بسم الله الرحمان الرحيم پیش لفظ 1965ء میں خلافت ثالثہ کے آغاز کے ساتھ ہی تحریک جدید بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔اس دور میں خلافت ثانیہ میں پوری دنیا میں لگائے جانے والے پودوں کو پھل لگنے لگے تھے۔چنانچہ ان پھلوں کو سمیٹنے کے لئے حضرت خلیفة المسیح الثالث نے بیرونی ممالک کے کئی دورہ جات کئے۔جو جماعتی ترقیات میں نہایت اہمیت کے حامل ثابت ہوئے۔انہی دورہ جات کے دوران آپ نے تحریک جدید کے ماتحت نصرت جہاں سکیم کا آغاز فرمایا جو جماعتی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی اور اس کے ذریعہ براعظم افریقہ میں تبلیغ کا ایک نیا باب کھلا۔اسی طرح اپنے دور خلافت میں حضور نے اپنے خطبات و خطابات کے ذریعہ تحریک جدید کی اہمیت ، ضرورت اور برکات سے احباب جماعت کو روشناس کروایا۔نیز اس میں شمولیت کی بھی تلقین فرمائی۔مثلاً تحریک جدید کے قیام کی غرض بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔" صدرانجمن کے علاوہ ہمارا دوسرا بڑا انظیمی ادارہ تحریک جدید ہے۔حضرت خلیفة المسیح الثانی نے اسے 1934ء میں شروع کیا تھا۔اس سے بڑی غرض یہ تھی کہ دنیا کے دور و در از ممالک میں اشاعت اسلام کا بندوبست کیا جائے۔چنانچہ اس تحریک کے ذریعہ ایک بڑی حد تک یہ غرض پوری ہوئی۔آج خدا کے فضل سے بعض ایسے ملک بھی ہیں، جن کے چندہ دہندگان کی تعداد پاکستان کے چندہ دہندگان کے قریب قریب پہنچ رہی ہے۔افریقہ میں خاص طور پر بڑی ترقی ہوئی ہے۔بڑاہی اخلاص رکھنے والے، دعائیں کرنے والے اور قربانیاں کرنے والے لوگ ہیں، جو وہاں جماعت میں داخل ہیں اور داخل ہورہے ہیں۔یہ روحانی انقلاب ہے، جو تحریک جدید کے ذریعہ رونما ہوا ہے۔دلوں کو فتح کرنے کے لئے تحریک جدید کو قائم کیا گیا تھا۔یہ غرض ابھی ایک حد تک ہی پوری ہوئی ہے۔دنیا صداقت کی پیاسی ہے۔ان کی پیاس بجھانے کا ابھی پورا پورا انتظام نہیں ہوا۔تحریک جدید کے سلسلہ میں ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ہمیں مبلغ بھی چاہئیں اور روپیہ بھی چاہیے۔الغرض ایک ضرورت ہمارے سامنے ہے اور وہ ضرورت ہمیں پکار رہی ہے۔جماعت کے قیام کی اصل غرض کو نہیں تحریک جدید کے ذریعہ پورا کرنا ہے۔خطاب فرمودہ 20 دسمبر 1965 ء )