تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 578 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 578

خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم میں ڈپٹی سیکرٹری تھے۔چنانچہ وہ بڑے دھڑلے سے گئے اور گورنر سے گفتگو کی۔اور میری تجویز کو ان کے سامنے ایسے انداز میں پیش کیا کہ وہ گورنر صاحب بڑے خوش ہوئے اور انہوں نے ہماری پیش کش کو جو دراصل انہی کے فائدے کے لئے تھی، قبول کر لیا۔اور اب جور پورٹیں مجھے موصول ہو چکی ہیں، ان کے مطابق انہوں نے ہمارے سکولوں کے لئے 40-140 یکٹر زمین بھی دے دی ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔غرض یہ بعد جو افسر اور ماتحت کا ہمیں یہاں نظر آتا ہے، وہ مغربی افریقہ کی ان اقوام میں مجھے نظر نہیں آیا۔ہم جب Reception ( ریسپشن) میں جاتے تھے تو وزراء اور کمشنر زیاڈی سی وہ مختلف نام استعمال کرتے ہیں۔آپس میں اس طرح گھلے ملے ہوتے تھے کہ آپ پتہ نہیں کر سکتے تھے کہ کون منسٹر ہے اور کون چھوٹا افسر ہے؟ وزراء کے علاوہ ہر دفعہ وہاں کے Ambassador (سفیر ) بھی ہوتے تھے۔بڑے بڑے امیر بھی ہوتے تھے، بڑے اثر و رسوخ والے سیاسی لیڈر بھی ہوتے تھے۔اور سب وہاں اس طرح گھوم رہے ہوتے تھے کہ کسی آدمی کو جو باہر سے گیا ہو یا ذاتی طور پر ان سے واقف نہ ہو، یہ معلوم نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ وزیر صاحب ہیں اور یہ حکومت کا ایک معمولی افسر ہے یا یہ ملک کا ایک معمولی دکاندار ہے۔دوسری چیز جو مجھے وہاں نمایاں طور پر نظر آئی، وہ یہ ہے کہ جو بعد امیر اور غریب میں ہمیں یہاں نظر آتا ہے، وہاں نظر نہیں آتا۔ایک تو بظاہر لباس کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔جہاں تک صفائی کا تعلق ہے، ایک چپڑاسی بھی اتنے ہی صاف کپڑوں میں آپ کو نظر آئے گا، جتنے صاف کپڑوں میں ایک وزیر نظر آئے گا۔اور ویسے بھی کپڑوں میں بہت سادگی ہے۔ہمارے ملک میں تو ہزاروں لوگ ایسے ہیں، جو چار، پانچ سوروپے گز سے کم والے سوٹ کو پہنے کے لئے دہنی طور پر تیار نہیں ہوتے۔اور اسی وجہ سے ہمارے معاشرہ میں بہت سا گند آ کر شامل ہو گیا ہے۔البتہ مغربی افریقہ کے لوگوں کو جسے پہنے کا بہت شوق ہے۔اور رنگدار کپڑوں کے استعمال کا مردوں کو بہت شوق ہے۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہمارے ملک میں عورتیں اتنے رنگ برنگے کپڑے نہیں پہنتیں، جتنے کہ وہاں مرد پہنتے ہیں۔اور پھر نئے سے نئے ڈیزائن، رنگ کے لحاظ سے، پھولوں کے لحاظ سے، ان کے جبوں پر نظر آتے ہیں۔ایک دفعہ مجھے خیال آیا اور میں نے اس بارہ میں غور کیا۔ہم موٹر پر جارہے تھے۔مجھے میل دو میل کے اندر سینکڑوں جسے نظر آئے۔مگر ان میں سے کوئی دو جسے ایک رنگ کے نہیں تھے۔پتہ نہیں وہ کس طرح اتنے مختلف ڈیزائن بنا لیتے ہیں؟ وہ بہر حال بناتے ہیں۔کیونکہ یہ وہاں کی مانگ ہے۔ویسے جب وہ جبہ بدلتے ہیں تو ان کی شکلیں بھی بدل جاتی ہیں۔ہم پہچان نہیں سکتے تھے کہ کیا یہ وہی شخص ہے، جو کچھ دیر پہلے تھا؟ جس نے کپڑے بدل لئے اور اب کچھ اور لگتا ہے۔578