تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 575 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 575

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 جولائی 1970ء ضرورت ہے، جن کی بیویاں بھی وہاں کام کر سکیں۔یعنی وہ بھی بی۔اے، بی ایڈ یا بی۔ایس سی، بی ایڈ ہوں۔کیونکہ وہاں بعض جگہیں ایسی بھی ہیں، جہاں مسلمان لڑکی تعلیم میں بہت پیچھے ہے اور پردے میں غلو کر رہی ہے۔اس لحاظ سے تو اچھا ہے کہ وہاں بے پردگی نہیں۔اور بے پردگی سے پردہ میں غلوا چھا ہے۔لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہاں کی مستورات علم سے ( اور علم در اصل خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہیں اور ان سے وہ) محروم ہیں۔ہماری طرف سے یہ کوشش ہورہی ہے کہ ایسے علاقوں میں با پردہ پڑھائی کا انتظام کیا جائے۔تا کہ اگلی نسل کی بچیوں کو ہم علم کے نور سے منور کر سکیں۔ہمیں بڑی دعائیں کرنی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر تو کچھ ہو نہیں سکتا۔جب اللہ تعالیٰ فضل کرے اور اپنے پیار کا جلوہ دکھائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔میں وہاں پانچ ہیڈز آف دی سٹیٹس سے ملا ہوں۔میں ایک غیر ملکی ، نہ میری ان سے جان ، نہ پہچان، مگر انہوں نے مجھ سے بے حد پیار کیا۔ان پانچ میں سے تین تو عیسائی تھے باقی دو غیر احمدی مسلمان تھے۔لیکن مجھ سے اس طرح ملتے تھے، جیسے ان کا کوئی بزرگ ہو۔میں دل میں حیران بھی ہوتا تھا اور الحمدللہ بھی پڑھتا تھا کہ میں تو بالکل عاجز اور ناکارہ انسان ہوں، یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے۔ایک جگہ ایک آرچ بشپ نے شروع میں تھوڑی سی شوخی کی تھی اس کی تفصیل بڑی لطیف ہے، بعد میں کسی وقت بتاؤں گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے دماغ پر ایسا رعب ڈالا کہ واپسی پر مصافحہ کرتے وقت اس طرح جھک گیا، جس طرح اپنے سے بڑے بشپ کے سامنے جھک رہا ہو۔اس وقت بھی میرے دماغ میں یہی آیا کہ تثلیث تو حید کے سامنے جھکی ہے۔یہ خیال نہیں پیدا ہوا کہ یہ شخص میرے سامنے جھکا ہے۔میں تو ایک عاجز انسان ہوں۔میں نے اس سے اللہ تعالیٰ کی توحید کے موضوع پر باتیں کی تھیں۔جس سے وہ اتنامرعوب ہوا کہ چلتے وقت اسے جھکنا پڑا۔پس اللہ تعالیٰ تو بے حد فضل کرنے والا ہے۔ہمیں یہ معلوم کرنا چاہئے کہ معرفت یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرتیں کیا ہیں؟ احمدیت کی زندگی کی یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ بے حد رحم کرنے والا ہے، وہ بڑا پیار کرنے والا اور اپنی بے شمار نعمتوں سے نواز نے والا ہے۔اگر ہم پھر بی الحمدللہ نہ کہیں تو ہم بڑے ہی بدقسمت ہوں گے۔پھر تو وہ آگے آجائیں گے، جو الحمد للہ کہنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ عطا کرے اور ہماری نسلوں کی صحیح تربیت کی ہمیں توفیق دے۔اور ہمیں یہ بھی توفیق دے کہ ہم ہمیشہ مسابقون میں رہیں، کسی سے پیچھے ندرہ جائیں“۔روزنامه الفضل 20 اگست 1970 ء) 575