تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 574
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 جولائی 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم تربیت کی جاسکے تو وہ دوسری قوموں سے آگے نکل جائیں گے۔روحانی لحاظ سے بھی وہ ہم سے آگے جاسکتے ہیں۔ہم نے کوئی Monopoly ( اجارہ داری تو نہیں کی ہوئی، اللہ تعالیٰ سے۔جو آدمی اس کی راہ میں زیادہ قربانیاں دے گا، جو اس سے زیادہ پیار کرے گا، جو دنیا کو چھوڑ کر اس کی طرف زیادہ توجہ کر رہا ہو گا، اس سے وہ زیادہ پیار کرے گا۔کیونکہ قرآن کریم میں جو اصول بیان ہوئے ہیں، اس کے خلاف تو نہیں ہو سکتا۔بہت سارے Digression (ڈائی گریشن) یعنی ادھر ادھر بھی میں گیا ہوں ، حالات بھی بتائے تھے۔جو بات میں نے آپ سے اس وقت کہی ہے، وہ خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی جنگ سوائے احمدیت کے کسی اور نے نہیں لڑنی۔اور جو اسلام کی جنگ لڑی جانی ہے، اس کے بڑے محاذ ہیں۔(اور چھوٹے چھوٹے محاذ بھی ہیں، کسی وقت ان پر بھی روشی ڈالوں گا۔) ایک دہریت اور لادینیت کا محاذ اور دوسرا نام نہا دعیسائیت کا محاذ۔نام نہاد میں نے اس لئے کہا ہے کہ عیسائیت اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔لیکن مادی لحاظ سے اور دنیوی طاقت کے لحاظ سے اس کا دنیا میں بڑا اثر و رسوخ ہے۔ایک خلاف فطرت کام کرنے والا افسر اور لیڈر جو ہے، جہاں عیسائیت کا مقابلہ ہوگا ، وہ عیسائیت کی مدد کر جائے گا۔حالانکہ اس کے سارے اعمال اور زندگی عیسائی نقطہ نگاہ سے بھی گند میں ملوث ہے۔یہ جنگ جو ہم نے عیسائیت سے لڑنی ہے، اس کا فیصلہ افریقہ میں ہوگا۔کیونکہ اگر آج ہم افریقہ سے عیسائیت کو نکال دیں تو پھر ان کے لئے یہ بڑا ہی مشکل ہے، سپین یا جنوبی امریکہ میں اس طرح اکٹھے ہو جانا۔اور Counter attack ( کاؤنٹر اٹیک) کے لئے جمع ہو جانا کہ جس میں انہیں کامیابی کی کوئی امید ہو۔عیسائیت کے دلائل کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتناز بر دست لٹریچر جمع کر دیا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک ایک چیز کو لے کر اس کے پر خچے اڑا دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاء اللہ نو جوانوں کے لئے ان کا ایک خلاصہ شائع کر دیا جائے گا، جس میں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ دلائل ہوں گے۔پیس افریقہ میں لڑی جانے والی جنگ کو جیتنے کے لئے ہم پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں بہت ساری باتیں میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔مثلاً نصرت جہاں ریزروفنڈ قائم ہمیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے، ہمیں ٹیچرز کی ضرورت ہے ڈاکٹروں اور ٹیچروں کو رضا کارانہ طور پر خدمات پیش کرنے کی جو میں نے تحریک کی تھی، اس سلسلہ میں شاید ایک بات رہ گئی تھی۔وہ یہ ہے کہ ہمیں ایسے ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے، جن کی بیویاں بھی ڈاکٹر ہوں۔اور ایسے ٹیچرز کی بھی ہے۔574