تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 515 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 515

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرموده 12 جون 1970ء خاموش کرنے کے لئے ساری دنیا کی طاقتیں، مسلمان بھی ، عیسائی بھی ، ہندو بھی ، یہودی بھی اور بدھ بھی، غرض ساری طاقتیں اکٹھی ہوگئی تھیں اور یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اس آواز کو خاموش کر دیں گے۔مگر خدا نے کہا کہ یہ دنیا تو کیا، اس قسم کی ہزاروں دنیا اور ہزاروں دنیا کی سب طاقتیں آجائیں، تب بھی یہ آواز خاموش نہیں کی جاسکے گی۔کیونکہ یہ میری آواز ہے۔یہ اس بندے کی آواز نہیں۔اور تم دلیل ہو، اس بات کی کہ وہ سچا تھا۔ورنہ یہاں نہ وہ جماعتیں پیدا ہوسکتیں ، جو ہو گئیں۔نہ ہی ان دلوں میں وہ محبت پیدا ہو سکتی، جو پیدا ہوئی۔نہ میں اس پیار کو دیکھ سکتا ، جو تمہارے چہروں پر مجھے نظر آ رہا ہے۔پس وہ بھی خوش تھے اور میں بھی خوش تھا۔آپ بھی خوش ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا۔میں نے شروع میں یہ فقرہ کہا تھا کہ میں ان کے لئے محبت اور پیار اور ہمدردی اور غمخواری اور اسلامی مساوات کا پیغام لے کر گیا تھا اور آپ کے پاس جب آیا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے منادی کی حیثیت سے واپس آیا ہوں۔اتنے فضل ، اتنے فضل کہ آپ ان کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔گرمی بھی بڑی ہے، مجھے بھی لگ رہی ہے، آپ کو بھی لگ رہی ہے۔اور شاید آپ میں سے چند میرے ساتھی ہوں گے۔جیسا کہ میری عادت ہے کہ میں جمعہ کی نماز سے پہلے کھانا نہیں کھایا کرتا ، اس لئے میں بغیر کھانا کھائے آیا ہوں۔پس بھوکا بھی ہوں اور گرمی کا بیمار بھی ہوں۔لیکن کہنے کو جتنا میرا دل کرتا ہے، کہوں گا۔پانچ دس منٹ اور بولوں گا۔انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ کے فضل ہر رنگ میں ظاہر ہوئے۔ایک مثال دیتا ہوں۔ہم سیرالیون میں اترے تو اللہ تعالیٰ کے پیار کا یہ جلوہ نظر آیا کہ جماعت کے علم کے بغیر ریڈیو والوں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ لاج تک پہنچنے تک آنکھوں دیکھا حال براڈ کاسٹ کریں گے۔( ہمیں لاج تک جہاں ہم نے رہائش رکھنی تھی ، پہنچے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔اس وقت ریڈیو پر رنگ کمینٹری، جسے آنکھوں دیکھا حال کہتے ہیں ، شروع ہوئی اور وہ لگا تار ڈیڑھ گھنٹے تک یہ آنکھوں دیکھا حال براڈ کاسٹ کرتا رہا۔اب یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ہر آدمی نے یہ پروگرام سنا۔سارے لوگ پہچاننے لگ گئے تھے۔مگر اب وہ عزت اور عظمت کے جلوے کے ساتھ پہچانتے تھے۔فوجی افسر جب گزرتے تھے تو وہ با قاعدہ سلوٹ کرتے تھے۔میں نے سوچا کہ اس میں میری ذاتی کیا عزت ہے؟ اور نہ مجھے اس کی خواہش اور نہ ضرورت۔میجر جنرل یا کمانڈر انچیف مجھے سلام کرے تو اس میں میری ذاتی طور پر کیا عزت؟ یہ تو اس خدا کی عزت کا اظہار ہے، جس نے اس اکیلے (مہدی معہود علیہ السلام) کو کہا تھا، میں تیرے ساتھ ہوں تو دنیا کی پروانہ کر۔اور پھر اپنے عمل سے ثابت 515