تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 514 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 514

خطبہ جمعہ فرمود و 12 جون 1970ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم وہاں پہنچنے کے چند دن بعد ایک دن کھڑا ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ بے حد خوش نظر آتے ہیں اور آپ خوشی کے مستحق ہیں، اس لئے آپ کو خوش ہونا چاہئے۔آپ اس لئے خوش ہیں کہ جماعت احمدیہ کی قریباً اسی سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے اور آپ لوگوں کی زندگیوں میں بھی یہ پہلا موقع ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاوہ محبوب مهدی، جوامت محمدیہ میں واحد و یکتا ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا ہونے کا وعدہ دیا گیا تھا کہ بے شمار فدائی تجھے دیئے جائیں گے۔اس وعدہ کے پورا ہونے پر اس امت مسلمہ میں سے جو اتنی بڑی ہے کہ اس کا شمار نہیں، صرف ایک کو چنا۔اور اس کے متعلق فرمایا۔إِنَّ لِمَهْدِينَا۔اپنا مہدی کہا اور صرف اس ایک کے متعلق فرمایا کہ جب بھی وہ آئے تو جو بھی امت محمدیہ کے افراد اس زمانہ میں ہوں، ان کا یہ فرض ہے کہ وہ میری طرف سے اسے سلام پہنچائیں۔بڑی قدردانی اور پیار کا اظہار ہے۔یہ اتنی قدردانی ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔وہ محبوب اور وہ وجود، جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پیارا تھا، آج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محبوب کا ایک خلیفہ تمہارے درمیان موجود ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ تو فیق عطا کی ہے کہ تم اسے دیکھو تم اس سے باتیں کرو اور تم اس کی باتیں سنو۔تم اس کے وجود اور اس کے کلمات سے برکت حاصل کرو۔خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ آج کا دن تمہارے خوش ہونے کا دن ہے۔میں نے انہیں کہا کہ تم بھی خوش اور میں بھی خوش۔تم تو اس لئے خوش ہو کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ محبوب روحانی فرزند کا ایک خلیفہ تم میں موجود ہے۔اور میں اس لئے خوش ہوں کہ آج سے اسی سال قبل ایک یکا و تنہا آواز ایک Unknown ( آن نون ) یعنی غیر معروف گاؤں سے اٹھی تھی ، جس کا مقصد اللہ کے حکم، اللہ کی توحید کو قائم کرنا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کو دنیا پر ظاہر کرنا تھا، لیکن تھی وہ اکیلی آواز۔مگر دنیا نے اسے نہیں پہچانا اور ساری دنیا اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اس آواز کو خاموش کرنے کے لئے اکٹھی ہو گئی۔مگر ساری دنیا کی ساری طاقتیں اس آواز کو خاموش کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔تمہارے منہ سے جو در و دنکل رہا ہے، تمہارے چہروں پر جو محبت کی بشاشت ہے، تم میں سے ہر ایک فرد دلیل ہے، اس بات کی کہ وہ اکیلی آواز ایک بچے اور صادق کی آواز تھی۔جھوٹے کی آواز نہیں تھی۔اور جب میں یہ دیکھتا ہوں تو میں بھی بڑا خوش ہوں۔تم اپنی جگہ پر خوش ہو کہ تم نے مجھے دیکھا اور میں اپنی جگہ پر خوش کہ میں نے تمہیں دیکھا۔سات ہزار میل دور، نہ بھی تم وہاں گئے ، نہ دیکھا۔مگر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے تمہارے دلوں کو بدل دیا۔اور تمہارے دلوں میں اس محبوب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو پیدا کر دیا۔وہ آواز جس کو 514