تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 499
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمود 12 جون 1970 ء کچھ تھا لیکن تمہیں ہر چیز سے ہی محروم کر دیا گیا۔چنانچہ اس سے اگلے روز جب میں ان کے ہیڈ آف دی سٹیٹ سے ملا تو ان سے میں نے کہا کہ کل میں نے ایک دوست سے کہا تھا کہ صدیوں کی حکومت کے بعد ایک فقیر اور دیوالیہ ملک چھوڑ کر یہ اقوام پیچھے ہٹ گئیں اور ان کا سب کچھ وہاں سے لے گئیں۔لیکن جماعت احمد یہ اپنے پیسوں پر، اپنے پیسے لے کر وہاں پہنچی اور کام شروع کیا اور وہاں جو کمایا، وہیں ان کی بہبودی کے لئے لگا دیا۔محبت کا یہ عملی پیغام دلوں پر اثر کئے بغیر نہیں رہا۔ان کے دل احمدی مسلمان ہوں یا عیسائی یا بد مذہب ہوں، احمدیت کے روپ میں اسلام کے حسن کو دیکھ کر اس کے گرویدہ ہیں اور وہ احمد بیت سے پیار کرتے ہیں۔بد مذہب والے بھی اور لامذہب دہریہ یا پرانے مذاہب کے نشانات و آثار رکھنے دورود والے بھی احمدیت سے پیار کرتے ہیں۔اور اس چیز کا میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔میں نے نائیجیریا میں ہی ایک روز دیکھا کہ پچاس ہزار سے زیادہ لوگ جن میں غیر مسلموں کی اکثریت تھی مجھے دیکھ کر خوشی سے ناچنے لگے۔وہ مجھے دیکھتے اور خوشی سے ناچنے لگ جاتے تھے۔کئی کئی میل تک ور دور سے آئے ہوئے دوست مرد و زن قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ایک، ایک احمدی قطار میں تھا اور اس کے پیچھے چھ چھ سات سات غیر مسلم ہوتے تھے۔غیر احمدی بھی تھے، غیر مسلم بھی تھے۔غیر مسلم تو میں صرف ان کے ناج کی وجہ سے پہچانتا ہوں۔کیونکہ خوشی کے اظہار کے لئے ان کا یہ طریق ہے۔وہ مردوزن ایک چیخ مارتے تھے اور پھر نا چنا شروع کر دیتے تھے۔جس سے میں سمجھ لیتا تھا کہ یہ یا تو عیسائی ہیں یا بد مذہب ہیں۔کس چیز نے انہیں اس بات پر مجبور کیا تھا کہ وہ ایک غیر معروف اور انجانے انسان کو دیکھیں اور خوشی سے ناچنا شروع کر دیں؟ ان کے دلوں میں جو احمدیت کے حسن سلوک اور احمدیت میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حسین چہرہ انہوں نے دیکھا، اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ احمدیت کے فریم میں انہوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس دیکھا اور اس پر فریفتہ تھے۔اس لئے احمدیت کا جو نمائندہ تھا، اسے دیکھ کر وہ خوش ہو جاتے تھے۔( یہ میں غیروں کی بات کر رہا ہوں ، ابھی اپنوں کی بات میں نہیں کر رہا۔اور میں نے لاکھوں آدمی ایسے دیکھے۔جب میں نے گوون کو کہا کہ میں بڑا خوش ہوں، تمہارے ملک میں ہر شخص ہنستا اور مطمئن نظر آتا ہے۔میں نے خود پچاس ہزار سے لاکھ تک مسکراہٹیں ایک دن میں وصول کیں۔جب بھی میں نے کسی کی طرف مسکرا کر دیکھا، اس نے بھی میری طرف مسکرا کر دیکھا اور خوش ہوا۔ایک دن میں پچاس ہزار سے لاکھ تک مسکراہٹیں وصول کرنا معمولی بات نہیں ہے۔مسکرا مسکرا کر میرے تو جبڑے بھی تھک جاتے تھے۔لیکن یہ ان کا حق تھا اور میں ان کا یہ حق دیتا تھا۔چنانچہ گوون بڑا خوش ہوا۔وہ خود بڑا پکا عیسائی ہے۔499