تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 34

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہوتی ہیں، ان سے بھول چوک بھی ہو جاتی ہے۔اور ان کے اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ ایسے اعمال بھی شامل رہتے ہیں، جن کو خدا تعالیٰ نے و اخر سیا کے الفاظ سے یاد کیا ہے۔لیکن چونکہ ان کے دل میں نفاق نہیں ہوتا بلکہ ان کے دلوں میں حقیقی ایمان پایا جاتا ہے، اس لئے بدی کے ارتکاب کے بعد ان کے دلوں میں احساس ندامت پیدا ہوتا ہے۔اور وہ امید رکھتے ہیں کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی تو بہ قبول کرلے گا۔اور اسی امید توقع اور یقین کی بناء پر جب بھی ان سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے اور جب بھی وہ کسی گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ اپنے رب کی طرف لوٹتے ہیں، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تو بہ کے ذریعہ اس رب غفور کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ ان کی تو بہ کو قبول کرتا اور ان کے گناہوں کو معاف کر دیتا اور ان کی خطاؤں کو مغفرت کی چادر کے نیچے چھپالیتا ہے۔یہاں یہ یادرکھنا چاہیے کہ تھوڑے ہی لوگ ہوتے ہیں، جنہیں کامل اور نام تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے۔اور یہ بڑے پایا کے اولیاء، قطب اور غوث کہلاتے ہیں۔لیکن نیکوں کی اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے، جو بشری کمزوری کے سبب اپنے اندر کچھ نہ کچھ خرابی رکھتے ہیں اور ان کے دین میں دنیا کی ملونی بھی ہوتی ہے۔اس اکثریت کے متعلق ہی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ بے شک بندہ کمزور ہے۔بے شک یہ حقیقت ہے کہ ہم نے بندوں کے ساتھ شیطان بھی لگایا ہوا ہے، جو انہیں ہر وقت ورغلاتا رہتا ہے۔اور باوجود ایمان کے وہ بعض دفعہ اس کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور اس کی بات کو مان لیتے ہیں۔لیکن جونہی انہیں ہوش آتا ہے، ان کے دل میں ندامت کا شدید احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنی غلطی کو دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں۔وہ اپنے رب کے حضور جھکتے اور کہتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تیرے بندے ہیں لیکن شیطان کے بہکانے میں آگئے تھے اور ہم سے کچھ گناہ سرزد ہو گئے ہیں۔ہم تجھے سے امید رکھتے ہیں کہ تو ہمارے ان گناہوں کو معاف کر دے گا اور پھر نئے سرے سے ہمیں عبودیت کے اس مقام پر کھڑا کر دے گا ، جس مقام کے لئے تو نے ہمیں پیدا کیا ہے۔گناہ سے متعلق یہ یادرکھنا چاہیے کہ یہ پیدا ہی اس وقت ہوتا ہے، جب دل کے اندر شیطان کے وسوسہ ڈالنے کی وجہ سے غیر اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔اور غیر اللہ کی محبت دنیا میں ہزاروں شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔کبھی بچوں کی محبت غلو اختیار کر جاتی ہے، کبھی اموال کی محبت اپنی حدود کے اندر نہیں رہتی کبھی رشتہ داری کی نیچ ہے، کبھی قومی فخر نیکیوں کے رستہ میں حائل ہو جاتا ہے اور کبھی انسان اپنی بری عادتوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔یہ سب چیزیں ایک ایسی محبت سے تعلق رکھتی ہیں، جو خدا تعالیٰ کی محبت نہیں کہلاتی 34