تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 464 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 464

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 103 اپریل 1970ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اختتام اور غلبہ اسلام کی طرف بڑھ رہا ہے، وہ قدم اور بھی تیزی کے ساتھ اپنے مقصود اور مطلوب کی طرف اللہ تعالیٰ کے سہارے اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل بڑھنے لگے۔اور ان ممالک میں بھی (ساری) دنیا میں ہی ) آخری فتح اور غلبہ کے دن جلد آ جائیں تاکہ بنی نوع انسان اس بھیا نک عذاب سے محفوظ ہو جائیں، جس کی طرف وہ خود اپنی جہالت کے نتیجہ میں بڑھ رہے ہیں“۔وو۔۔۔۔پس محبت اور پیار سے اپنے دن گزاریں اور صدقہ اور دعاؤں کے ساتھ میری مدد کریں۔جو کام میرے سپرد ہے اور جس کی آخری ذمہ داری ان کمز ور کندھوں پر رکھی گئی ہے ، وہ صرف میرا کام نہیں بلکہ ساری جماعت کا کام ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ صدقہ اور دعا سے میری مدد کریں۔اللہ تعالیٰ جس غرض کے لئے اس سفر کے سامان پیدا کر رہا ہے، وہ غرض پوری ہو۔میں نے شاید پہلے بھی بتایا تھا، میرا پچھلے سال جانے کا پروگرام تھا، پھر بعض وجوہات کی بناء پر چھوڑنا پڑا۔چنانچہ مغربی افریقہ سے ایک پرانے بوڑھے احمدی کا مجھے خط آیا کہ ساری عمر یہ حسرت رہی کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زیارت ہو جائے۔غالباً انہوں نے اس غرض کے لئے رقم بھی جمع کی لیکن ان کو اس کی توفیق نہ ملی۔پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔اور انہوں نے لکھا کہ میں آپ کی شکل نہیں دیکھ سکا۔آپ سے مل کر برکت نہیں حاصل کر سکا۔میں زندہ ہوں، آپ کا وصال ہو چکا ہے۔اب آپ کی خلافت ثالثہ کے وجود میں امید بندھی تھی کہ یہ موقع مل جائے گا، آپ سے ملاقات ہو جائے گی۔لیکن میں اتنا بوڑھا ہوں کہ اب میرے دل میں یہ وسوسہ رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو، جو ایک سال کا التوا ہے، اس میں، میں اس دنیا سے چلا جاؤں۔اور یہ حسرت میرے دل ہی میں رہے کہ جماعت احمدیہ کے امام کی زیارت کر سکوں۔پس اس قسم کی تڑپ ان بھائیوں کے دل میں ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ محبت سے اور فراست اور پیار سے اور ان کی ضرورتوں کے سمجھنے اور ان کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کرنے سے ان کی پیاس کو بجھا سکوں۔اور خدا تعالیٰ ان کے لئے سیری کے سامان پیدا کر دے۔تا کہ وہ بشاشت کے ساتھ ہمارے کندھے سے کندھا ملائے ، اسلام کی فتح کے دن کی طرف ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے بڑھتے چلے جائیں۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر کچھ ہو نہیں سکتا۔ہم اسی کے در کے بھکاری ہیں اور ہم اسی کے حضور جھکتے ہیں، اسی پر ہمارا تو کل ہے۔دنیا کا کوئی سہارا نہ ہمارے پاس ہے، نہ دنیا کے کسی سہارے کی ہمیں خواہش ہے۔اگر وہی ایک ہمارا پیارا اسہارا بن جائے تو ہمیں سب کچھیل گیا۔سارے سہارے ہم نے پالئے۔464