تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 422 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 422

اقتباس از مجلس عرفان فرموده 07 اکتوبر 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بیٹھے تھے۔دیکھو، خلافت راشدہ کے سلسلہ کے خلفاء امام اور مجددین بھی تھے۔صدی کے سر پر جو مجدد دین آئے ، ان میں اور خلفائے راشدین میں نمایاں فرق ہے۔اور وہ فرق یہ ہے کہ مثلاً حضرت ابو بکر کا حکم ساری امت پر چلتا تھا۔لیکن صدی کے سر پر آنے والے مجددین میں سے کسی ایک کا حکم بھی ساری امت پر نہیں چلا۔بلکہ ان کا حکم اپنے اپنے زمانہ اور اپنے اپنے علاقہ کے لوگوں پر چلا۔وہ انبیائے بنی اسرائیل کی طرح محدود علاقہ کے لیے تھے اور پھر وہ محدود زمانہ کے لئے تھے۔لیکن حضرت ابو بکر کا حکم ساری دنیا پر چلتا تھا۔حضرت عمر کے زمانہ میں کئی نئے ممالک فتح ہو چکے تھے۔اور حضرت عمر کا حکم ان سب ممالک پر چلتا تھا۔روحانی اور دینی لحاظ سے بھی ، ان سب ممالک کے رہنے والوں کو آپ کا فتویٰ ، آپ کا حکم اور آپ کا فیصلہ مانا پڑتا تھا اور اس کے لئے وہ کوشش بھی کرتے تھے۔جو آپ کا حکم، فتویٰ یا فیصلہ ماننے سے انکار کرتا، وہ باغی سمجھا جاتا تھا۔لیکن ان کے مقابلہ میں حضرت سید احمد صاحب شہید کولو، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے مجدد تھے، انہوں نے کیا کوشش کی کہ نائیجیریا کے لوگ ان کی بات مانیں؟ انہوں نے اس کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔اس لئے کہ صدی کے سر پر آنے والا مجد دساری دنیا کے لئے نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے علاقہ اور زمانہ کے لئے ہوتا ہے۔پھر عثمان فود یوکو لے لو، وہ نائیجیریا کے مجدد تھے۔ان کے پیدا ہونے سے پہلے ملک کے اخیار کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی تھی اور یہ بتایا گیا تھا کہ عنقریب مجدد پیدا ہو گا۔آپ ان بشارتوں کے مطابق پیدا ہوئے۔لیکن اس کے باوجود انہوں نے کوئی کوشش نہیں کی کہ شامیوں یا چینی مسلمانوں سے اپنی بات منوائیں۔اگر وہ شامیوں کی طرف سے بھی مجدد تھے تو انہوں نے ان سے اپنی بات نہ منوا کر خود خدا تعالیٰ کی بات کو نہ مانا ، جو درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صرف مجدد ہی نہ تھے بلکہ آپ مامور من اللہ تھے ، آپ ظلمی نبی تھے اور کمال ظلیت اور فنافی الرسول میں آپ اول نمبر پر تھے۔آپ کے نبوت کے دعوی کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت آپ کے پاس ہی رہی۔اور کمال ظلیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا مشن بھی ساری دنیا کے لیے ہے، جیسا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن ساری دنیا کے لئے تھا۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں حالات بھی ایسے پیدا کر دیئے ہیں کہ ساری دنیا میں تبلیغ ہورہی ہے۔مسلمانوں کو قرآن کریم کے صحیح معنی سے متعارف کرایا جارہا ہے۔اور غیر مسلموں کو اسلام کے حسن اور احسان کے ذریعہ اسلام کی طرف لایا جارہا ہے۔اور اللہ ہی فضل کر رہا ہے۔اور جو کچھ ہورہا ہے، وہ کسی انسان کا کام نہیں۔یہ کام انسانی طاقت سے باہر ہے۔اس لئے ایک احمدی کو تو ہر وقت الحمد للہ رب العالمین کہتے رہنا چاہیئے۔422