تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 420 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 420

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اگست 1969ء وو تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ یہ جماعت مخلصین کی جماعت ہے (الا ماشاء اللہ، ہر الہی جماعت میں منافق بھی ہوتے ہیں) اور ایک ایسی فدائی اور ایثار پیشہ جماعت ہے کہ جس کا قدم ہر وقت ترقی کی طرف ہی ہے، پھر یہ غفلت کیوں؟ اس سستی کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ جماعت نے رضا کارانہ طور پر ایک مزید بوجھ قربانی کا اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔اور وہ بوجھ فضل عمر فاونڈیشن کے چندوں کا تھا۔اور پچھلے چند مہینے ان وعدوں کو پورا کرنے کی طرف جماعت کے بہت سے احباب کی توجہ تھی۔اس لئے شاید کچھ کمی واقع ہو گئی ہو۔اب اس کا زمانہ تو گزر گیا، استثنائی طور پر بعض احباب کو اجازت دی جارہی ہے، اس لئے جماعت کو چاہیے کہ عارضی طور پر جو داغ ان کے کردار پر لگ گیا ہے، یعنی وہ پچھلے سال سے بھی ان چندوں کی ادائیگی میں کچھ پیچھے رہ گئے ہیں، اس کو جلد سے جلد دھوڈالیں۔اور دو مہینوں کے اندراندر ان کی قربانیاں پچھلے سالوں کی نسبت زیادہ نظر آنی شروع ہو جائیں۔امید ہے ( اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ) کہ جماعت اس بات کی توفیق پائے گی“۔میں جب مربیوں کی رپورٹیں دیکھتا ہوں ، ان کے کام کا جائزہ لیتا ہوں، وہ مجھے ملتے ہیں یا ان کے حق میں بعض تعریفی کلمات آتے ہیں یا ان کے خلاف شکایات مجھے پہنچتی ہیں تو میرے ذہن میں ایک مجموعی تاثر قائم ہوتا ہے۔اور بہت سے مربیوں کے متعلق میرے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ان خوش بختوں نے اپنے مقام کو پہچانا نہیں۔اور جو خوش بختی ان کے مقدر میں لکھی جاسکتی تھی ، اس پر وہ اپنے ہاتھ سے چرخیاں ڈال رہے ہیں۔مربی کو ایک نمونہ بن کر دنیا کے سامنے آنا چاہیے۔اور وہ نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ ہے۔مگر وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ گوحقیقتا جتنے مربی ہمارے پاس ہیں، وہ تعداد کے لحاظ سے بہت کم ہیں۔لیکن ان کی تعداد کے لحاظ سے بھی ایک چوتھائی کام ہورہا ہے اور تین چوتھائی کام ان کی غفلتوں کے نتیجہ میں نہیں ہوتا۔وہ گھر بیٹھے رہتے ہیں اور اپنے کام کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ان کے اندر قربانی کی روح، جوش اور جنوں کی کیفیت نہیں۔مجھے یہ دیکھ کر بڑا رنج ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اپنی رحمتوں کے اس قدر وسیع دروازے کھولے تھے مگر وہ ان کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو گئے ہیں اور اس طرف قدم بڑھانے کا نام نہیں لیتے۔ان کو دعا کرنی چاہیے اور میں تو دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں کو دور کرے اور ان کی بصیرت اور بصارت کو تیز کرے۔اور ان کے دل میں اس محبت کے شعلہ میں اور بھی شدت پیدا کرے، جو ایک مربی کے دل میں اپنے رب کریم و رحیم کے لئے ہونی چاہیئے۔420 ( مطبوعه روزنامه الفضل 27 اگست 1969ء)