تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 418
خطبہ جمعہ فرموده 23 مئی 1969ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم ہدایت دی گئی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس کے لئے یہ ایک راستہ کھول دیا ہے کہ تحریک جدید میں تم ظاہری طور پر چندے دیتے ہو۔یہ اعلانیہ چندے ہیں، ریکارڈ ہوتے ہیں، چھپتے ہیں، رپورٹیں پڑھی جاتی ہیں۔لیکن کچھ ایسے خرچ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں کئے جاتے ہیں، جو اعلانیہ نہیں ہوتے بلکہ سرا ہوتے ہیں۔وقف عارضی کی مالی قربانی کی طرح تحریکیں تو ہوتی رہیں گی۔لیکن بہت سی تحریکیں ایک خاص وقت پر شروع ہوتی ہیں لیکن وہ چلتی چلی جاتی ہیں۔جب تک کہ قوم زندہ رہے اور وہ اپنی آخری انتہائی فلاح کو حاصل نہ کر لے۔تحریک جدید بھی اسی قسم کی تحریکوں میں سے ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ وقف عارضی کو بھی اس طرح ا چاہیے۔اور تحریکیں بھی اپنے وقت پر ہوتی رہیں گی۔اللہ تعالٰی نے جماعت کو اس مقام سے گرنے سے بچانے کے لئے ، جہاں وہ آج پہنچ چکے ہیں، ان کے اوپر اٹھانے کا سامان کر دیا ہے۔دماغ میں ایک بات آتی ہے، پیش کر دی جاتی ہے۔بشاشت سے قبول کی جاتی ہے اور کام شروع ہو جاتا ہے۔اس سال ممکن ہے، فضل عمر فاؤنڈیشن کا سال ختم ہونے کی وجہ سے تحریک جدید کے وعدوں میں کمی ہو۔تحریک جدید کے وعدے پچھلے سال کے وعدوں تک بھی نہیں پہنچے۔قریبا ہیں ہزار روپے کا فرق ہے۔گزشتہ سال پانچ لاکھ نوے ہزار کے وعدے تھے۔اس سال اس وقت تک پانچ لاکھ ستر ہزار کے وعدے ہوئے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ یہ پانچ لاکھ نوے ہزار کے وعدے مارچ، اپریل تک ہوئے اور ابھی وعدے لکھوانے میں اور ادائیگیوں میں بھی بڑا وقت ہے۔لیکن ہم نے اپنے سامنے جو ایک Target رکھا ہے۔یعنی ہم نے جو فیصلہ کیا ہے کہ تحریک جدید میں اتنی رقم جمع ہو، پاکستان کی جماعت کو وہ جمع کرنی چاہیے۔اور یہ طے شدہ منصوبہ سات لاکھ نوے ہزار کے بجٹ پر مشتمل ہے۔اس کے مقابلہ میں یہ وعدے بہت کم ہیں۔جیسا کہ میں نے اپنے ایک خطبہ میں بتایا تھا کہ جماعت میں استعداد ہے کہ وہ تحریک کا سات لاکھ نوے ہزار کا بجٹ پورا کر سکے۔اگر وہ تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھیں ، اگر وہ ان انہی برکتوں کا احساس رکھیں ، جو تحریک جدید میں معمولی اور حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے ہم نے حاصل کی ہیں، اگر وہ اسلام کی ضرورت کو پہچانیں اور یہ یقین رکھیں کہ ضرورت وقت سے شاید ہزارواں حصہ بھی نہیں، جو ہم دے رہے ہیں۔لیکن جتنا ہم دے سکتے ہیں، وہ ہمیں دینا چاہیے۔تا کہ جو ہم نہیں دے سکتے اور جس کی ضرورت ہے، اس کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور اپنی برکت سے پورا کر دے۔پس وعدوں کے لکھوانے کی طرف فوری توجہ دیں۔اور پھر 30 جون کے بعد وصولیوں میں زیادہ تیزی پیدا ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو، مجھے بھی اور آپ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کے سمجھنے اور ان کے ادا کرنے کی توفیق عطا کرے“۔مطبوعه روزنامه الفضل یکم جون 1969ء) 418