تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 402 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 402

اقتباس از تقریر فرموده 07 اپریل 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہمارے چرچ نے یہ ہدایت دی ہے کہ احمدیت کا کوئی لٹریچر نہیں پڑھنا اور کسی احمدی سے گفتگو نہیں کرنی ، اس لئے میں تمہارے ( دس، بارہ سالہ بچہ کے ساتھ گفتگو کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔غرض جو عظیم بشارت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس جماعت کے لئے دی تھی ، وہ ہر روز پوری ہورہی ہے۔بڑے بڑے پادری بچوں کے سامنے بھی بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ہم نو جوان تھے۔نو جوانوں کی ایک پارٹی جس میں، میں بھی تھا۔بشپ آف لا ہور کو ایک اتوار کو ملنے گئے۔کچھ دیر تو ہم وہاں کھڑے رہے۔اس کے بعد ایک شخص آیا اور اس نے ہم سے دریافت کیا کہ (بشپ صاحب پوچھتے ہیں) آپ کون ہیں اور کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ ہم نے ایک کاغذ پر لکھ دیا کہ ہم احمدی ہیں اور آپ کے ساتھ تبادلہ خیالات کرنا چاہتے ہیں۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ بڑا افسوس ہے کہ میں آپ کے ساتھ بات نہیں کر سکتا۔ہم اس وقت ایف اے کے طالب علم تھے۔اب دیکھو کہ بشپ آف لاہور بھی ایف اے کے طلباء سے بات کرتے ہوئے گھبراتا ہے۔سکنڈے نیویا میں ہمارے ایک آنریری مبلغ ہیں، ان کی تعلیم و تربیت صرف تین سال کی ہے۔اس سے بات کرتے ہوئے بھی بڑے بڑے پادری گھبراتے ہیں۔پھر جرمنی میں ہمارے ایک نو جوان یو نیورسٹی کے طالب علم ہیں ، ان سے بات کرتے ہوئے بھی پادری گھبراتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے مخالف اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں اور جان چکے ہیں کہ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے اتنے زبر دست دلائل دیئے ہیں کہ وہ ان کا جواب نہیں دے سکتے۔خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ تمہارے اخلاق کی برکت سے میں اسلام کا نور دنیا میں پھیلاؤں گا۔جماعت میں سے بہت ہیں، جو اخلاق کے نمونے دکھاتے ہیں۔مگر وہ بھی ہیں، جو اس طرف متوجہ نہیں۔اس لئے خدا کے لئے اور اپنی اخروی زندگی کو درست کرنے کے لئے تمام اخلاقی کمزوریوں کو دور کر دو۔بھائی بھائی سے ناراض نہ ہو۔جہاں آپ معافی دے سکتے ہیں، وہاں آپ بشاشت سے معافی دیں کہ آپس میں کوئی بگاڑ نہ رہے۔دن رات خدا تعالیٰ کی حمد میں لگے رہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلعہ میں پناہ گزیں ہو جائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا تھا کہ قلعہ ہند میں پناہ گزین ہوئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمائندہ ہیں ، آپ اصل ڈھال ہیں، اسلام کی۔تمام بچے مسلمان آپ کے وجود ہی میں مدغم ، غائب اور گم ہیں۔اور اس الہام میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایسا انتظام کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں رہنے والوں میں ایک ایسا سلسلہ جاری کیا جائے گا کہ و سلسلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ میں پناہ گزین ہونے والا ہوگا۔402